اونچی دکان پھیکا پکوان   -   روبینہ فیصل

تخلیقی عمل سے گذرنے والے ،ایک کرب ، سے گذرتے ہیں ۔ لیکن اس عمل کے مکمل ہو جا نے کے بعد ، جب بچہ ہاتھ میں آتا ہے تو ساری  تکلیفیں بھول جاتی ہیں اور لگتا ہے بس یہی دنیا ہے ، اور وہ ہم نے فتح کر لی ہے۔تخلیق سے ذیا دہ نہ تکلیف کسی اور عمل میں ہے اور نہ خوشی ۔۔۔۔ ابھرتی ہو ئی شاعرہ  رابعہ احسن نے تخلیق کے چاند پر پہلا قدم رکھا اور انکی کتاب ،گلاب لمحے،ہمارے ہاتھوں میں آئی ۔جس کی  انہیں کھلے دل سے مبارکباد ۔۔ ۔۔
کھلے دل کا لفظ ، اس لئے استعمال کیا ، کہ مبارک دیتے ہو ئے ، کسی کی کاوش کو سراہتے ہو ئے ، ہم سب کے دل ، خاص کر کے ، لکھنے پڑھنے والوں کے دل بہت تنگ پڑھ جاتے ہیں ۔ پہلے ہم سوچتے ہیں ، اوہ، جسے ہم مبارک باد دینے جا رہے ہیں کیا وہ پنجابی ہے یا اردو سپیکنگ ؟
لاہو ر کا ہے یا کرا چی کا ؟ شعیہ ہے کہ وہابی ، سنی ہے کہ بریلوی ؟ اور آجکل تو تنگ نظری کا دامن اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ پوچھتے ہیں کہ مسلم لیگ کا ہے یا پی ٹی آئی کا ؟ عورت ہے یا مرد ؟ مرد ہے تو کیا مندرجہ بالا ساری شرائط پر پو را اتر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کیا ہماری غزلوں ، نظموں اور کالموں کو فیس بک پر جا کر لائیک کر تا ہے ۔ کرتا ہے تو مبارک باد دی جا سکتی ہے اور تعریف بھی کی جا سکتی ہے ۔ 
اسی طرح لکھنے والی کوئی عورت ہو تو ایک دو شرائط کا اضافہ ہو جا تا ہے ۔ کیا وہ ہم سے ہنس کے بات کرتی ہے ؟ کیا وہ ہماری ہر بات جھٹ سے مان لیتی ہے ؟ کیا وہ ہم سے اپنی غزلوں نظموں کی اصلاح لیتی ہے ؟ کیا وہ ہم سے ہر بات میں مشورے کرتی ہے ؟کیا وہ ہمارے نظریات اور خیالات سے بغیر چوں چراں کئے اتفا ق کر تی چلی جاتی ہے ، کیا صرف اس کا سر ہاں میں ہلتا ہے ؟کیا وہ ہمیں مظلومیت کے قصے سناتی ہے ؟ کیا وہ دنیا کے ظلم و ستم سے تنگ آکر ہماری پناہ میں آنے کو تیا ر ہے ۔؟ اگر ان میں سے ایک آدھ بات پر پو ری اترے تو مبارک باد دی جا سکتی ہے ، ایک سے زیادہ پر اترے تو تعریف بھی کی جا سکتی ہے ۔ اور اگر ساری باتوں پر من و عن پو ری اتر جائے تو تعریف میں زمین  و آسمان کے قلابے ملائے جا سکتے ہیں ۔ اور اسے بڑی بڑی نامور اور منجھی ہو ئی شاعرات کے ساتھ بھی ملانے میں کو ئی حرج نہیں ۔۔۔۔ ایسی کی تیسی ادب کی ۔۔۔۔اور اگر خدا نخوستہ وہ پو ری نہیں اترتی اور اس نے کچھ لکھنا شروع کر دیا ، یالکھا ہوا چھپوا لیا ، توپورے شہر میں قیامت برپا ہو جاتی ہے ۔ 
تجربہ کار ، خود ساختہ ، ادب کے ٹھیکدار ، فون اٹھاتے ہیں ، اور ایک دوسرے کو گھمانا شروع کر دیتے ہیں ۔ارے واہ، وہ بھی شاعرہ بن گئی ۔رائٹر بن گئی  اوہ دیکھا !! لکھنا سیکھا نہیں ،،اور کتاب چھپوا لی ۔ اور ان ماہرین میں وہ محترمات بھی پیش پیش ہو تی ہیں ، جو ان مرد حضرات کے زیر ِ سایہ ادب کی دنیا میں اعلی مقام بنا رہی ہو تی ہیں یا بنا چکی ہو تی ہیں ، اور ان حضرات سے ادھار لی ہوئی دانش کو اپنی ہی میراث
 جا نتے ہو ئے ، کسی بھی نئے لکھنے والے کا مذاق اڑانے کی اہل قرار پا تی ہیں ۔
ایک فقرہ یہ بھی کہا جا تا ہے آجکل تو کتابیں ، چھپوانا کو ن سا مسئلہ رہ گیا ۔ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا چھپوا رہا ہے۔۔۔ کتاب کی رونمائی بھی ہو رہی  ہے ۔۔ہا ہا ہا ۔۔ ایک قہقہ لگایا جاتا ہے ۔۔۔۔ 
جائو گے ؟ توبہ توبہ میں کو ئی پاگل ہوں ۔۔
 اچھا میں تو شائد جائوں ، دیکھ کے تو آئوں وہاں کیا تماشہ ہو گا ۔۔
جو بچارہ رونمائی کرواتا ہے وہ بھی زیر ِ عتاب آجا تا ہے اور اسے کچھ دیر کے لئے ادبی دعوتوں میں یا تو بلانا بند کر دیا جا تا ہے اور اگر وہ ڈھیٹ بن کر خود ہی چلا جائے تو اسے دیکھ کر ایسے ناک بھوں چڑھائی جا تی ہے ، جیسے اس نے کوئی ناجائز بچہ گود لے لیا ہو ۔ 
اور ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے سے بات پو رے شہر میں پھیلانے کی کوشش کی جا تی ہے ۔ اور جو  انسان ان کا ہم خیال نہیں ہو گا ، اس کی زندگی تنگ کر نے کی کوشش کی جاتی ہے ، اور ادب کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جانے لگتا ہے۔ ، جیسے مولویوں کو ہر دم یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اسلام خطرے میں اسی طرح ان نام نہاد ادب کے ٹھیکداروں کو لگتا ہے کہ ادب خطرے میں ہے ۔ اور وہ ادب کو بچانے کے لئے شلواریں ٹخنوں سے اونچی کر کے میدان ِ جنگ میں اللہ اکبر ، اللہ اکبرکہتے اتر آتے ۔  اور ایسے گستاخ ِ ادیبوںکے خلاف باقاعدہ جہاد کا اعلان کیا جا تا ہے ۔۔ جو اس جنگ میں شامل وہ مجاہد ، جو ذرا نرم دل کا سائیڈ پر ہوجائے، اسے غدار ِ ادب کہا جا تا ہے۔
۔ یہ سب کے لئے نہیں ، کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ، جو بھیڑ چال کا حصہ نہیں بنتے ۔ ہر نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ، رہنمائی بھی کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔۔ لیکن ہیں ۔۔۔
مجھے اعتراض ،" تنقید" پر نہیں ، مجھے اعتراض اس" تعریف" پر ہے جو ذاتی دوستی اور محبتوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔وہی ادب کے محافظ جو ایک نقطے کا ہیر پھیر ، برداشت کر نے کے روادار نہیں ، وہ اپنے پیارے یا پیاری کی ہر تخلیق کو سر آنکھوں سے لگاتے ہیں ، چومتے چاٹتے ہیں اور معصوم پڑھنے والوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اس شہر میں سب سے بڑا ادب تخلیق ہو رہا ہے تو یہی انسان کر رہا ہے ، باقی سب مایہ۔۔۔۔۔
میں ایک زمانے میں بڑی معصوم ہوا کر تی تھی ، سوچتی تھی ، کارل مارکس ، انسانی حقوق  اوردنیا میں امن کی بات کرتی ہوں، گاندھی جی اور نیلسن میڈیلاکے نظریہ عدم تشدد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں ، بھگت سنگھ سے بڑی متاثر ہوں ،تاریخ ، آرٹ اور لٹریچر کی متجسس طالبعلم ہوں تو مجھے بھی چھوٹا موٹا دانشور سمجھ ہی لیا جائے اور اپنے برابر بیٹھنے کی جگہ دی جائے ۔ مگر میرا سنی ،پنجابی اوپر سے،خود اعتماد اور صاحب الرائے ہو نا آڑے آتا رہا ۔عورت اور وہ بھی ایسی خود سر۔۔میرے گناہ ناقابل ِ معافی تھے۔
بچے کچھے اخلاقیات،محبت مساوات و اخوت کے بت اس دن ٹوٹ گئے جب میں نے بلوچستان اور پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہو نے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے اوپر آواز اٹھانے کے ساتھ کشمیر میں ہو نے والے ریاستی ظلم پر بھی آواز اٹھادی ، بلوچستان کے آزادی مانگنے والوں کو ان کا حق سمجھ کے صحیح جانا تو پو چھا خالصتان کا مطالبہ کر نے والے کیسے دہشت گرد ہو گئے ؟1984میں اندرا گاندھی کی
 بد معاشی پر انگلی اٹھائی اور پو چھا کیا یہ بھی ریاستی دہشت گردی کی ایک قسم نہیں ہے ؟ ۔۔۔ گاندھی جی کی شخصیت کی دل کھول کر تعریفیں کیں  ، مگر جب کہا کہ میرا جناح ہی میرا قائد ہے اور مجھے انہی کی شخصیت کی سچائی پسند ہے۔تو مجھے بھسم کر دیا گیا۔ جب میں نے کہا علامہ اقبال باکمال شاعر ہیں ۔ایسے ایسے ادبی اور تاریخی گناہ ؟
 اور ساتھ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ یہ محترمہ بنگالیوں کا فوج کے ہاتھوں قتل ِ عام ہوا ، اس پر بات کر تی ہے تو  بنگالیوں کے ہاتھوں فوج اور بہاریوں کے سفاک قتل کو بھی نہیں بھولتی ۔ پاکستان کی تاریخ کو اپنی نگاہ سے جانچنے کی کوشش کر تی ہے۔۔ایسی حرکتیں؟ تو یہ کہاں کی رائٹر یہ تو آئی ایس آی کی ایجنٹ ہے۔۔۔۔ کوئی ان کو یہ بتائے کہ پاکستان کی ریاست او ر ایجنسیاں اتنی قابل ہو تیں ، تو آپ جیسے پاکستانی ،جو انڈیا کی حمایت کرتے نہیں تھکتے انہیں دو چار لارے لپوں سے یا پیسوں سے خرید نہ لیتی ۔۔؟ اور آج سارے پروپگینڈے پاکستان کی حمایت میں نہ شروع ہو گئے ہو تے ؟۔۔۔ تو پاکستان کی نااہلی کو جو نہ سمجھ سکیں ، ان کے علم و دانش کے  بہتے سر چشموں سے میں ہاتھ دھونے کی نااہل قرار پائی ۔۔۔اور کچھ عرصہ خود کو ان سب تماشوں سے دور کر کے چلہ کاٹا تو ایک ہی آواز آئی  : اونچی دکان پھیکا پکوان۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔