ٹیلی پیتھی   -   زیڈ اے ملک

پاکستان میں ٹیلی پیتھی کو متعارف کروانے میں محی الدین نواب مرحوم کا بہت بڑا ہاتھ ہے ان کا شہرہ آفاق ناول ’’دیوتا‘‘ جس کا مرکزی کردار فرہاد علی تیمور ٹیلی پیتھی کا ایک ماہرجبکہ پورا ناول ٹیلی پیتھی کے گرد گھومتا ہے یہ ناول اس دور میں لکھا گیا جب لوگ ڈائجسٹ بہت ذوق و شوق سے پڑھتے تھے اور ریڈرز کی تعداد آج کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی اس ناول کو پڑھنے والوں نے اتنا پسند کیا کہ 33سال تک یہ قسط وار چھپتاچلاگیااس کے ساتھ ساتھ ایک دوسری تبدیلی یہ آئی کہ لوگوں میں ٹیلی پیتھی کو سمجھنے اور سیکھنے کا شوق حد درجہ بڑھ گیا ‘لوگوں کے اسی شوق و تجسس کو دیکھتے ہوئے مارکیٹ میں ٹیلی پیتھی کے حوالے سے بیسیوں نہیں سینکڑوں کتابیں بھی آگئیں یہی نہیں ٹیلی پیتھی سیکھنے میں مددگار علوم جیسا کہ سانس کی مشقوں کے ساتھ شمس بینی ‘آئینہ بینی‘   نقطہ بینی، شمع بینی اور ماہ بینی کی کتابوں کی بھی بھرمار ہوگئی ‘ لوگ اس علم کو اسی نظر سے دیکھتے تھے جو خاکہ محی الدین نواب صاحب نے اپنے ناول میں پیش کیا تھا اور پھر کتابوں کی مدد سے سیکھنے کی کوشش کرتے لیکن ظاہر ہے کتابیں معلومات کا خزانہ تو ہوسکتی ہیں لیکن اتنے پیچیدہ علوم کو سیکھنے کیلئے کتاب کی مدد ایسے ہی ہے جیسے بائیو لوجی پڑھ کرکوئی سمجھے کہ اب وہ ڈاکٹر ہے ‘ ٹیلی پیتھی کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ جدید سائنس کی دریافت ایک علم ہے اورجیسے ناول میں اس کو پیش کیا گیا لوگوں کا یہ خیال پختہ ہوگیا لیکن ٹیلی پیتھی جیسے علوم پر صدیوں سے ریسرچ ہوتی رہی ہے لوگوں کی اس میں دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی بنی کہ محی الدین نواب صاحب نے ناول میں بتایا کہ ٹیلی پیتھی کے ذریعے جہاں کسی کے خیالات کو باآسانی پڑھا جاسکتا ہے وہاں اس کے ذہن میں بیٹھ کر اس کی ہر ہر بات اور حرکت سے انسان باخبر رہ سکتا ہے اور جب چاہے اس کے دماغ کو کنٹرول کرکے جو چاہے بلوائے یا حرکت کروائے ‘ غرض کسی بھی شخص کو معمول بنا کر اس سے ہر کام کروایا جاسکتا ہے ‘یہ خیال اپنی جگہ بہت ہی پرکشش ہے کہ انسان کسی کو بھی ایسے قابو کرسکتا ہو جیسے وہ روبوٹ ہو اور آپ کے ہاتھ میں اس کا ریموٹ آجائے ‘حقیقت میں ٹیلی پیتھی مادی وسیلے کے بغیر دماغی رابطے اور خیالات پڑھ لینے کے علم کا نام ہے ‘ہر شخص کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں کسی نہ کسی حد تک یہ تجربہ ضرور ہوا ہوگا کہ اس کا دماغی رابطہ کسی شخص سے قائم ہوگیا ہے، چاہے چند لمحے کے لیے ہی سہی‘ مغربی محققین نے ٹیلی پیتھی کے موضوع پر پچھلے سو برسوں میں جو تحقیقات کی ہیں ان سے ثابت ہوگیا ہے کہ دو ذہن کسی جسمانی رابطے کے بغیر ایک دوسرے سے بذریعہ خیال و تصور پیوستہ اور وابستہ ہوسکتے ہیں‘ سائنسدانوںنے ٹیلی پیتھی کے تجربات سائنسی تجربہ گاہوں میں کئے ہیں اور ان تجربات کے نتیجے میں ٹیلی پیتھی کو بطور ایک سائنسی حقیقت کے تسلیم کرلیا گیا ہے جبکہ روحانیت اور تصوف سے وابستہ لوگ بھی اپنے انداز میںاس علم کے ہونے کا دعوی کرتے ہیں ‘ ٹیلی پیتھی سائنس کی دریافت ہو یا تصوف کی خالق کی عطا کردہ قوت ہے‘ اس کا ماہر بننے کیلئے ضروری ہے کہ انسان یکسوئی کے انتہائی درجے پر پہنچ چکا ہو کہ تبھی وہ اپنے خیالات کسی کے دماغ میں ٹرانسفر اور اس کے خیالات جان سکتا ہے ‘ہاورڈ میڈیکل اسکول، اسٹاریاب بارسلونا اور فرانس کے ایکسیلوم روبوٹک کے ماہرین کی مشترکہ تحقیق میں آٹھ ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک دماغ سے دماغ تک پیغامات کی ترسیل یا ٹیلی پیتھی کا کامیاب تجربہ کیا گیا دوران تجربہ ان کی ٹیم نے اپنے ایک رضاکار کے سر پرایسی ڈیوائس لگائی جو اس فرد کے دماغ کے برقی کرنٹ کو مخصوص لہروں میں تبدیل کرتی ہے اور پھر اس فرد کے خیالات لیپ ٹاپ میں منتقل کردیتی ہے اور اپ لوڈ ہونے کے بعد یہ مخصوص لہریں ان خیالات کو انٹرنیٹ کے ذریعے دوسرے فرد میں منتقل کردیتی ہیں جس کے سر پر بھی یہ ڈیوائس لگائی جاتی ہے جیسے ہی یہ خیالات دوسرے شخص تک پہنچتے ہیں ڈیوائس کام شروع کردیتی ہے اور وہ پہلے فرد کے خیالات کو پڑھنے یا جاننے لگتا ہے یعنی سائنس بغیر لمبے مجاہدوں مشقوں کے ٹیلی پیتھی کو مشینوں کے ذریعے ہر انسان کو ماہر بنانے کیلئے مصروف عمل ہے اور جو لوگ شارٹ کٹ سے یہ علم سیکھنا چاہتے ہیں یہ خبر ان کے لئے دلچسپ اور اچھی بھی ہے کہ وہ مشین کے ذریعے ماہر فن بن سکتے ہیں ‘ تصوف سے وابستہ لوگ بھی ٹیلی پیتھی کے حوالے سے اپنے انداز میں بات کرتے ہیں صوفیاکرام نے اس علم کو پانے کیلئے  لطیفہ خفی کا طریقہ اختیار کرنے کا راستہ بتاتے ہیں جبکہ دیگر روحانی ماہرین شمس بینی ‘آئینہ بینی‘ نقطہ بینی، شمع بینی اور ماہ بینی وغیرہ کے ذریعے مشقوں کا بتاتے ہیں ‘ سلسلہ عظیمیہ میں رنگوں کے ذریعے ٹیلی پیتھی کا ماہر بننے کی بہت ساری مشقیں بتائی جاتی ہیں ‘دیگر مذاہب کے روحانی لوگ بھی کئی طرح کی مشقوں کو ٹیلی پیتھی میں مہارت کیلئے استعمال کرنے کی ماہرانہ رائے دیتے نظر آتے ہیں ‘ روحانی قوتیں جیسا کہ کشف ، الہام ، وجدان خداد داد صلاحیتیں بھی ہو سکتی ہیں اور مجاہدات و ریاضت سے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں‘ان تمام باتوں کے تناظر میں دیکھا جائے تویہ بات تو بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کو اللہ تعالی نے بہت ساری ایسی صلاحیتوں سے نواز ہے کہ جن کو استعمال کرکے انسان سپرنیچرل قوتیں بیدار کرسکتا ہے ‘ لیکن یہاں ایک بہت اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے فرض کریں آپ ٹیلی پیتھی کے ماہر ہیں اور کسی کے بھی خیالات پڑھ سکتے ہیں اور فیملی کے ساتھ کہیں موجود ہیں وہاں موجود کوئی شخص شاید آپ کا دوست یا کوئی بھی آپ کے ساتھ موجود خواتین جو آپ کی بہن ‘بیوی یا کسی بھی عزیز رشتے سے ہوں اور سامنے والے کے دماغ میں ان کے بارے میں منفی خیالات آپ پڑھنے میں کامیاب ہوجائیں ایسے خیالات جو آپ کی برداشت سے باہر ہوں تو کیا آ پ کیلئے ٹیلی پیتھی کا ماہر بننے کے بعد کی دنیا بہت آسان ہوگی یا ۔۔۔۔۔