اپریل فول ۔۔تاریخ اپنے آپ کو مسلسل دہرا رہی ہے!   -   پروفیسر ضیاء الرحمن کشمیری

 ہر سال کی طرح ایک مرتبہ پھر ماہِ اپریل کی آمدہے ۔ اس ماہ کی پہلی تاریخ کو مسلمان اپنی بربادی کا جشن مناتے ہیں۔ یہ بات جانے بغیر کہ اپریل فول کی حقیقت کیا ہے، ہم اندھا دھند اغیار کی نقالی پر کمربستہ ہیں۔ اپریل فول کی حقیقت جاننے والا ہر مسلمان آج بھی خون کے آنسو روتا ہے۔ آج سے1407 برس قبل عرب مسلمانوں کا ایک لشکر طارق بن زیاد کی زیر قیادت 711ء میں اندلس کے ساحل پر اترا تھا، جہاں طارق بن زیاد نے اپنے ہاتھوں اپنی تمام کشتیاں جلا ڈالی تھیں، تا کہ تمام مجاہدین کے دلوں سے واپسی کا تصور ختم ہوجائے۔ 7ہزار مجاہدین کی قلیل فوج نے فتح یا شہادت کے اصول کے تحت دیوانہ وار لڑتے ہوئے شاہ راڈرک کی ایک لاکھ سے زائد منظم فوج کو شکست دے کر تھوڑے ہی عرصے میں پورے اسپین، پرتگال اور جنوبی فرانس پر اسلامی پرچم بلند کردیا تھا ۔ان فتوحات کے بعد 8سو برس تک مسلمان بلا شرکت غیرے یہاں حکمران رہے۔ بعد ازاں مسلمانوں کی آپس کی ناچاقیوں ، باہمی بد اعتمادی اور یہود و نصاریٰ کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے 1492ء میںمسلمانوں کی یہ عظیم الشان حکومت تاراج ہوکر زوال پذیر ہوگئی۔ جب اسپین سے اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوا توعیسائی حکومت کی طرف سے یہاں کے مسلمانوں کو ملک چھوڑنے کا حکم ملا،جس کے بعد یہاں کے رہنے والے عرب مسلمانوں نے ہچکیوں، آنسووں اور آہوں کے درمیان رخت سفر باندھنا شروع کر دیا۔اس دوران یکم اپریل کو بلیڈا نامی ایک عیسائی پادری نے نہتے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا پروگرام بنایا۔ اورایک منظم منصوبے کے تحت مسلمان آبادی والے علاقوں میں یہ اعلان کروایا گیاکہ عربوں کے بحری جہازوںکا بیڑہ مسلمانوں کو لینے کے لئے ساحل پر آچکا ہے۔ یہ اعلان سن کر تمام مسلمان فوری طورپر تیار ہوکر تقریباً ڈیڑھ لاکھ کی تعداد میں ساحل کی طرف چل پڑے۔ان میں زیادہ تعداد بوڑھے ، کمزور، بیمار افراد اور عورتوں ،بچوں کی تھی۔ لیکن جب مسلمانوں کے یہ قافلے ساحل پر پہنچے تو وہاں دور دور تک کسی بحری جہاز کا نام و نشان نہ تھا۔ ابھی مسلمان اسی پریشانی میں غلطاں تھے کہ عیسائی غنڈوں اور بد معاشوں پر مشتمل فوج نے ان نہتے اور بے گناہ مسلمانوں پر حملہ کرکے ان کا قتل عام شروع کردیا اور چند گھنٹوں میں 1 لا کھ20ہزار سے زائد مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک ہر سال یکم اپریل کو دنیائے عیسائیت مسلمانوں سے کئے ہوئے اپنے اس جھوٹ اور فراڈ اور ان کے اتنے بڑے پیمانے پر قتل و غارتگری کی یاد تازہ کرنے کے لئے اپریل فول کا دن مناتی ہے۔ مقام افسوس ہے کہ ہم بھی عیسائیوں کے ساتھ مل کر اپنے اُن ایک لاکھ 20ہزار مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی لاشوں پر کھڑے ہوکر ان اسلام دشمنوں کے دیگر غیر اسلامی ایام کی طرح اپریل فول بھی جوش و خروش سے مناتے ہیں۔من حیث القوم یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ 
    اُس وقت توفقط اپریل کی ایک تاریخ کو یہ داستانِ الم رقم کی گئی تھی جبکہ آج مسلمانوں کے لیے ہر دوسرا دن ’’اپریل فول ‘‘بنا دیا گیا ہے۔ ڈیڑھ صدی قبل جس طرح ایک جھوٹ کی بنیاد پر عیسائیوں اور یہودیوں نے مل کر مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا ، اسی طرح آج عالم اسلام کا ہر ملک یکے بعد دیگرے ان عیسائیوں اور یہودیوں کی جھوٹ پر مبنی سازشوں کی بھینٹ چڑھتا چلا جا رہاہے ۔ عراق پر حملہ کرنے کے لیے امریکا نے جھوٹ گھڑا کہ صدام حسین نے کیمیائی بم تیار کر لیے ہیں ، جن سے دنیا کی بقا کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ اس جھوٹے الزام کو عالمی جوہری توانائی ایجنسی IAEAنے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے پاس کیمائی ہتھیار نہیں ہیں لیکن امریکا نے کسی کی ایک نہ سنی اور اس جھوٹ کے سہارے عراق پر حملہ کر کے نہ صرف پورا ملک تباہ کر دیا بلکہ عیسائی پادری بلیڈا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے لاکھوں عراقی مسلمانوں کو پیوند زمین کر دیا ۔ عراق کے بعد لیبیا، مصر، تیونس، افغانستان اور شام کو تباہ کر کے اب پینٹاگان اور تل ابیب کا اگلا ہدف یقینا پاکستان ہے۔عراق پر لگائے جھوٹے امریکی الزام کی طرح اب اسی قسم کے جھوٹ کو پاکستان پر بھی مسلط کرنے کی مکروہ سازشیں ہو رہی ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام غیر محفوظ ہے اور دہشت گردوں کے ہاتھ لگ کر دنیا کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پاکستان دشمن منصوبہ ساز پے در پے فکری، نظریاتی ، جغرافیائی ، معاشی ، ثقافتی اور تہذیبی حملے بھی تسلسل سے کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ان تمام قسم کے حملوں کی بنیاد جھوٹے پروپیگنڈے پر ہے اور اس ضمن میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔اس سازش کے منصوبہ ساز سب سے پہلے پاکستانی قوم کے اندر سے امید ، اعتماد، یقین اور حوصلے جیسے جذبات کو ختم کر دینا چاہتے ہیں ۔ آپ الیکٹرانک میڈیا پر دیکھ لیں ۔ 100میں سے 95فیصد کرنٹ افیئر ز کے پروگرام جھوٹ کا سودا بیچ کر قوم میں مایوسی اور نا امیدی پھیلا رہے ہیں ۔ یہود و نصاریٰ کے خاکوں میں رنگ بھرتے ہوئے عوام کے دل و دماغ میں اپنی حکومت اور اپنے اداروں کے خلاف زہر بھرا جا رہاہے ۔ ایسا کوئی گھٹیا حربہ اختیار کرنے سے نہیں رہ گیا ، جس سے منتخب حکومت کو بخشا گیا ہو ۔ اگر حکومت کوئی اچھا اقدام بھی کرے تو اسے بھی یہ مایوسیاں پھیلانے والے مخصوص نام نہاد اینکر پرسنز غلط ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھائی دیتے ہیں ۔یہ اینکرز کس طرح اور کس قدر جھوٹ بولتے ہیں، یہ جاننے کے لیے زینب قتل کیس کی تازہ مثال ہی لے لیں ۔ پنجاب حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں نے دن رات ایک کر کے معصوم زینب کے قاتل عمران کو گرفتار کیا تو نیوز ون ٹی وی چینل کے ثابت شدہ اور سزا یافتہ جھوٹے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے پوری قوم کی آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے کہا کہ زینب کا اصل قاتل یہ عمران نامی شخص نہیں بلکہ اس قتل کے پیچھے انٹر نیشنل پورن مافیا کا ہاتھ ہے ۔ شاہد مسعود نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی ساری محنت کو مشکو ک بنانے اور اس کیس کو غلط رخ دینے کے لیے 18جھوٹ بولے ۔ اس ثابت شدہ جھوٹے اینکر کی ڈھٹائی دیکھیں کہ ٹی وی سکرین پر دھڑلے سے کہا کہ اگر اس کے زینب قتل کیس کے حوالے سے 18دعووں میں سے ایک دعویٰ بھی جھوٹ ثابت ہو تو اسے پھانسی دے دی جائے ۔ اس پر چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے نوٹس لیا اور شاہد مسعود کے 18دعووں کو پرکھنے کے لیے ایک اور جے آئی ٹی بنا دی ۔ اس JITنے ایک ماہ کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ دی کہ شاہد مسعود کا ایک دعویٰ بھی سچا نہیں ہے بلکہ اٹھارہ کے اٹھارہ دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں ۔ یہود و نصاریٰ کی سازش کو سمجھنے کے لیے یہ ایک مثال ہی کافی ہے کہ وہ ان ٹی وی چینلز کے ذریعے عوام کے قلوب و اذھان میں اپنی حکومت اور قومی اداروں کے خلاف بد اعتمادی اور بے یقینی کا زہر بھر رہے ہیں تاکہ عوام کا اپنی حکومت اور اداروں کے اوپر اعتماد، بھروسہ اور یقین ختم ہو جائے ۔اب بات ایک ’’ اپریل فول ‘‘ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب ہمیں روزانہ ’’ اپریل فول ‘‘ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ 
    چند اور مثالیں۔ دشمن قوتیں پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں کو متنازعہ بنانے کے لیے بھی الیکٹرونک میڈیا کو استعمال کر رہی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے لیے پانی کا مسئلہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ اس ضمن میں سب سے بنیادی ضرورت نئے ڈیموں کی تعمیر ہے لیکن یہاںبھی ’’اپریل فول ‘‘یعنی جھوٹ آڑے آرہا ہے ۔ڈیموںکی تعمیر میں سب سے موزوں اور مفید کالا باغ ڈیم ہے لیکن میڈیا پر بیٹھے چند بکائو اینکرز ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت سندھی ، بلوچی او رپشتون قوم پرستوں کو کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں کھڑ اکر دیتے ہیں ، ان کو پروموٹ کرتے ہیں ، ان کی آواز کو وزنی بنا کر پیش کرتے ہیں ، اور ایسی منظر کشی تخلیق کرتے ہیں جیسے اگر کالاباغ ڈیم بن گیا تو خدا نخواستہ ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا ۔ حالانکہ تمام آبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے کسی صوبے کو کوئی خطرہ یا نقصان لاحق نہیں ہوگا اور اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان بجلی کی پیداوار اور پانی کی ضروریات میں کافی حد تک خود کفیل ہو جائے گا ۔ لیکن جھوٹے پروپیگنڈے نے آج تک اس مفید ترین آبی منصوبے کو آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ اسی طرح پاکستان میں عوام کی سہولت کے لیے میٹرو بس سروس ، اورنج ٹرین ، موٹر ویز اور ریلوے نظام کی تعمیر نو اور بحالی شروع ہوئی تو بجائے اس کے کہ ان ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر پر تحسین کی جاتی ، ایک بار پھر جھوٹ کا بازار گرم کر دیا گیا۔ ان عوامی منصوبوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کر کے ان کو رکوانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ۔ اسی طرح سی پیک جیسے عظیم الشان گیم چینجر منصوبے کو متنازعہ بنانے کے لیے بھی جھوٹ کا لامتناہی سلسلہ شروع ہے ۔ روزانہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر طرح طرح کی جھوٹی داستانیں گھڑ کر عوام کو بتایا جا تا ہے کہ اس منصوبے میں کھربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے ۔افسوسناک امر یہ ہے کہ ان الزامات کے ساتھ ثبوت ایک بھی نہیں پیش کیا جاتا ہے ۔ اس تمام جھوٹے پروپیگنڈے کا ایک مقصد ہے کہ عوام کے اندر سے اپنی حکومت اور قومی اداروں کا اعتماد اور بھروسہ ختم کر دیا جائے ۔ یہ حربہ یہودی و عیسائی منصوبہ سازوں نے کامیابی سے عراق ، لیبیا، مصر، تیونس ، شام اور افغانستان میںآزمایا ، اب اسی جھوٹ پر مبنی حربے کو یہ لابیاں پاکستان پر آزما رہی ہیں ۔ اب قوم کے اجتماعی شعور کاکڑا امتحان ہے کہ وہ ان پاکستان دشمن قوتوں کے آلہ کار بنتے ہیں یا ان کے خلاف سینہ سپر ہوکر اپنے ملک ، اپنی قوم ، اپنی منتخب حکومت اور اپنے قومی اداروں کے دفاع میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ذمہ دار اور محب وطن صحافیوںاور اینکر پرسنز نے جس طرح نام نہاد اینکر پرسن شاہد مسعود کے قول و فعل سے برات کا اعلان کیا تھااور اس کی کھل کر مذمت کی تھی، اسی طرح ان کو اپنی صفوں میں موجودتمام کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنے کے لیے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزارتِ داخلہ، وزارتِ اطلاعات ، سپریم کورٹ ، نیب اور پیمرا کو بھی جھوٹ پھیلانے والے ان یہود و نصاریٰ کے ایجنٹوں کے خلاف سخت ایکشن لینا ہوگا ۔ بغیر ثبوت محض الزام لگانے والے ہر اینکر کی گردن پر پائوں رکھنا ہوگا اور ساتھ یہ تحقیق بھی کرنا ہوگی کہ ان مخصوص فتنہ پرور اینکرز کے تانے بانے کہاں پر جاکر پاکستان دشمن قوتوں سے ملتے ہیں اور ان کے کروڑوں اربوں روپے کے اثاثہ جات کا منبع کیا ہے؟ان جھوٹ کے بیوپاریوںکو لگام نہ دی گئی تو نوشتہ دیوار پڑھ لیں کہ پھر ہمارے دشمنوں کواپنے ناپاک عزائم پورے کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ پس کوئی ہے جو ان باتوں پر غور وتدبر کرے !! 
٭…٭…٭