بالی ووڈ کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ فلمسازی کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے، مایا علی

بالی ووڈ کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ فلمسازی کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے، مایا علی

ماڈل واداکارہ مایا علی نے کہا ہے کہ ہمیں بالی ووڈ کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی مشترکہ فلمسازی کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔مایا علی کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹس چینلز اور انٹرنیٹ کے باعث ہماری ذمے داریوں کے ساتھ مقابلہ بھی سخت ہوچکا ہے، لوگ وہی فلم اور ڈرامہ دیکھیں گے جس کی کہانی اور فنکاروں کی پرفارمنس اور تفریح ملے۔ اس وقت بے شمار ٹی وی ڈرامہ سیریلز اور سوپ آن ائیر ہیں، ان میں سے چند ایک ہی ہوں گے جو عوام میں مقبول ہیں۔اداکارہ نے کہا کہ اچھی پرفارمنس اور مقبولیت کے لیے تعداد نہیں معیاری ہونا ضروری ہے۔ ماڈل واداکارہ کی حیثیت سے میری پہلی ترجیح معیار ہی ہے اسی لیے صرف منتخب پروجیکٹ ہی کر رہی ہوں۔ ٹی وی ڈراموں کے ساتھ فلمی سرگرمیوں کی بحالی پر بھی بے حد خوشی ہے،پردہ اسکرین کی اپنی ایک دنیا ہے۔ اس دنیا کا حصہ بننا ہر ماڈل اور فنکار کا خواب ہوتا ہے، ماضی میں اگر دیکھیں توشاید ایسا ممکن نہیں تھا، مگر اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔مایا علی نے کہا کہ نوجوان فلم میکر نے ویران انڈسٹری کے جسم میں روح پھونک دی ہے۔ ان کی یہ کاوش کے ثمرات نظر آنے شروع ہوگئے ہیں۔ ہماری فلموں کو صرف پاکستان ہی نہیں بیرون ممالک بھی سراہا جانے لگا ہے۔ایک سوال کے جواب میں مایا علی نے کہا کہ پچھلے سال بالی ووڈ گئی، وہاں پر بالی ووڈ ڈائریکٹر پروڈیوسرز سے ملاقاتیں ہوئیں جو پاکستانی فنکاروں کی صلاحیتوں کے بے حد معترف ہیں۔ ہمیں بالی ووڈ کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی جوائنٹ ایڈونچر کرنے کے لیے پلاننگ کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ فلم بڑا اور مقبول میڈیم ہے پرستاروں کو جلد ہی سرپرائز دوں گی۔