پیٹ پھولنے اور گیس سے نجات کا ٹوٹکا آپ کے کچن میں

پیٹ پھولنے اور گیس سے نجات کا ٹوٹکا آپ کے کچن میں

کیا بہت زیادہ کھانے کے بعد پیٹ بہت زیادہ بھرنے بلکہ یوں کہیں پھولنے کا احساس ہوتا ہے؟

تو آپ اکیلے نہیں یہ تجربہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہوتا ہے، تاہم اچھی بات یہ ہے کہ اس کی روک تھام کا ٹوٹکا تو آپ کے کچن میں ہی موجود ہے۔

 

 

سونف کا استعمال تو مختلف شکلوں میں صدیوں سے ہورہا ہے جو کھانے کے ذائقہ تو بہتر بناتا ہی ہے اس کے ساتھ اسے خام حالت میں بھی کھایا جاسکتا ہے۔  

دنیا کے کچھ حصوں میں تو لوگ سونف کو کھانے کے بعد کھاتے ہیں، کیونکہ مانا جاتا ہے کہ اس سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور پیٹ پھولنے اور گیس جیسے مسال کی روک تھام ہوتی ہے۔

جی ہاں اگر آپ کو پیٹ پھولنے اور گیس کا اکثر سامنا ہوتا ہے تو سونف متعدد طریقوں سے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

تو یہ کیسے مدد کرتی ہے؟

سونف فائبر سے بھرپور ہوتی ہے، ایک کھانے کے چم سونف سے 2 گرام فائبر جسم کو ملتی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں سیب میں 3 سے 4 گرام فائبر ہوتی ہے۔

بالغ افراد کو روزانہ غذا سے 25 سے 30 گرام فائبر استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

فائبر ہیضے کی روک تھام کرتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ قبض اور دیگر نظام ہاضمہ کے مسائل جیسے گیس سے بھی ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔

سونف جراثیم کش بھی ہوتی ہے اور اس کے استعمال سے ایسے بیکٹریا کو جسم سے خارج کیا جاسکتا ہے جو کچھ غذاؤں کے استعمال سے پیٹ میں گیس کا باعث بنتے ہیں۔

سونف سے جسم میں ورم بھی کم ہوتا ہے، جس سے آنتوں کی سوجن یا خراش میں کمی آتی ہے اور ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔

سونف سے آنتوں کے مسلز کو بھی سکون پہنچتا ہے جس سے قبض سے نجات پانے میں مدد ملتی ہے، ہاضمے اور آنتوں کے پرسکون مسلز قبض یا تیزابیت کے باعث پیٹ پھولنے یا گیس سے بھی ریلیف فراہم کرتے ہیں۔

سونف کو کس طرح استعمال کریں؟

سونف میں چکنائی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے تو اسی لیے بہتر ہے کہ ایک چائے یا کھانے کے چمچ سے زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

اس کے علاوہ چائے کی شکل میں بھی ان سے مدد لی جاسکتی ہے، جس کے لیے سونف کے دانوں کو پیش کر سفوف بنالیں اور ائے میں شامل کردیں، ایسے کرنے سے زیادہ چکنائی خارج ہوگی اور ذائقہ بہتر ہوگا۔

یا سونف کی کچھ مقدار کو پیس کر گرم پانی میں شامل کردیں، جس کو سونف کی چائے بھی کہا جاتا ہے۔

کیا کوئی نقصان پوسکتا ہے؟

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ سونف میں چکنائی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے تو بہت زیادہ مقدار میں اسے کھانا مختلف مضر اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

2015 میں جانوروں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سونف میں موجود آئلز کی زیادہ مقدار چوہوں میں نسوانی ہارمونز کو بڑھاتی ہے، تاہم انسانوں پر اس حوالے سے کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔

اس کے علاوہ کچھ افراد میں سونف سے الرجی ری ایکشن بھی ہوسکتا ہے مگر اس حوالے سے بھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق سونف کے متعدد فوائد ہیں اور یہ گیس کے مسئلے سے کی روک تھام یا اس سے نجات میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔

غذا میں اس کے اضافے سے جسم کو زیادہ فائبر ملتا ہے جو صحت کے لیے قدرتی طور پر فائدہ مند ہے۔

تاہم حاملہ خواتین یا بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں کو سونف کھانے سے گریز کرنا چاہیے یا کم از کم ڈاکٹر کے مشورے سے ایسا کرنا چاہیے۔