کسی بھی قسم کے میٹھے مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی

کسی بھی قسم کے میٹھے مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی

ذیابیطس ٹائپ 2 موجودہ عہد میں دنیا بھر میں وبا کی طرح پھیلنے والی ایسی بیماری ہے جو دیگر متعدد امراض کا خطرہ بھی بڑھا دیتی ہے۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ بہت زیادہ میٹھا کھانا یا سافٹ ڈرنکس کا استعمال ذیابیطس کا شکار بناسکتا ہے مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ درحقیقت ہر طرح کے میٹھے مشروبات بھی اس خاموش قاتل مرض کا باعث بن سکتے ہیں۔

 

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ہارورڈ ٹی چی چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا یگا کہ مصنوعی (چینی) یا قدرتی مٹھاس والے تمام مشروبات کا زیادہ استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔

آسان الفاظ میں چینی سے بنے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس یا سو فیصد فروٹ جوسز وغیرہ سب ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بناسکتے ہیں۔

اسی طرح تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ مصنوعی مٹھاس یا سویٹنر والے مشروبات کا استعمال بھی ذیابیطس کا خطرہ کم نہیں کرتا تاہم ان میٹھے مشروبات کی جگہ پانی، کافی یا چائے کو دینا اس جان لیوا مرض سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ پہلی تحقیق ہے جس میں ان مشروبات کے استعمال اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے خطرے کے درمیان طویل المعیاد تعلق کا جائزہ لیا گیا اور اس کے نتائج جریدے جرنل ڈائیبیٹس کیئر میں شائع ہوئے۔

تحقیق کے دوران رضاکاروں کا 4 سال تک جائزہ لینے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ روزانہ ایک سافٹ ڈرنک یا جوس کی جگہ پانی، کافی یا چائے (بغیر چینی کے) کو دینا ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ 10 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

اس کے مقابلے میں میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال اسی دورانیے میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 16 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں ایک لاکھ 60 ہزار خواتین اور 35 ہزار مردوں کے غذائی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور پھر ان سے 26 سال کے دوران ہر 4 سال بعد غذائی سروے بھروائے گئے تاکہ ان کی صحت اور طرز زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکے یا وہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار تو نہیں۔

محققین نے پھر ان کے مشروبات میں تبدیلی، وزن اور مجموعی صحت کو بھی مانیٹر کیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ میٹھے مشروبات پینے والے افراد میں جسمانی وزن میں اضافے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔

یہ نتائج زیادہ حیران کن نہیں کیونکہ یہ مشروبات جیسے سوڈا کیلوریز اور چینی سے بھرپور ہوتا ہے جو جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے جسے ذیابیطس کے خطرے کا بنیادی عنصر سمجھا جاتا ہے۔

مگر اس تحقیق میں بتایا گیا کہ جسمانی وزن میں اضافے کو ہٹا کر بھی میٹھے مشروبات اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے درمیان براہ راست تعلق بھی موجود ہے ۔

تحقیق میں صرف 28 فیصد کیسز میں میٹھے مشروبات کے استعمال سے جسمانی وزن میں ضافے اور ذیابیطس کے خطرے کو ریکارڈ کیا گیا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ دیگر عناصر بھی اس حوالے سے اہم کردار کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق ایک وجہ ان مشروبات کے استعمال سے جگر میں چربی کا ذخیرہ ہوسکتا ہے جو انسولین کی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

مگر تحقیق میں فروٹ جوسز اور ڈائٹ مشروبات اور ذیابیطس کے درمیان تعلق زیادہ حیران کن ہے کیونکہ انہیں سافٹ ڈرنکس کے مقابلے میں صحت بخش متبادل سمجھا جاتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ سو فیصد فروٹ جوس پینا بھی ذیابیطس کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا سکتا ہے حالانکہ یہ سوڈا کے مقابلے میں زیادہ غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں فائبر بھی موجود ہوتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈائٹ مشروبات اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مشروبات میٹھے مشروبات جتنے نقصان دہ ہیں، کیونکہ کچھ افراد میں کسی قسم کا طبی عارضہ بھی اس کی وجہ ہوسکتا ہے، تو فروٹ جوسز کا استعمال اعتدال میں رہ کر کرنا ممکنہ طور پر نقصان دہ نہیں۔

اس نئی تحقیق سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ میٹھے مشروبات صحت کے لیے کتنے نقصان دہ ہیں جبکہ چائے یا کافی جیسے مشروبات صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔