’’اس نے مجھے اپنے ساتھ رسی سے باندھا اور دریا میں اتر کر حصار باندھ کر عمل پڑھنے لگا،یکایک پانی میں ہلچل ہوئی اورسینکڑوں ایسی چیزیں میرے سامنے آگئی کہ

’’اس نے مجھے اپنے ساتھ رسی سے باندھا اور دریا میں اتر کر حصار باندھ کر عمل پڑھنے لگا،یکایک پانی میں ہلچل ہوئی اورسینکڑوں ایسی چیزیں میرے سامنے آگئی کہ

جب میں نیا نیا روحانی دنیا میں آیا اور مجھے بھی حاضرات اور جنات کا جنون ہوا تو میں بھی بے شمار بابوں اور ملنگوں کے پاس گیا۔ جیسے آج کل بہت سارے لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ کوئی موکل یا جن دے دیں اسی طرح میں بھی بابوں سے یہی کہتا کہ مجھے بھی کوئی جن وغیرہ دکھائیں۔ 90 فیصد بابے ملنگ تو ویسے ہی خالی ہوتے ہیں ،صرف باتوں سے ہی گزارا کرتے ہیں۔ اس شوق کو پوراکرنے کے لئے میں نے بھی بہت سارا وقت برباد کیا۔ میرے بہت مہربان بزرگ تھے بابا اللہ دتہ ، میں ان کے پاس گیا اور اپنی اس کی خواہش کا اظہار کیا، بابا جی حقہ پی رہے تھے جو ان کا معمول تھا۔ میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور بولے ’’اوماسٹر فقیری چھوڑ کر تو بھی اس طرف آگیا ہے‘‘