چیونگم کی مدد سے 6 ہزار سال پرانا راز حل ہوگیا

چیونگم کی مدد سے 6 ہزار سال پرانا راز حل ہوگیا

یورپی ماہرین نے ایک درخت سے حاصل کی گئی چیونگم کے ٹیسٹ سے 6 ہزار سال قبل کی خواتین کے خدوخال کا پتہ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ماہرین نے انسان کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونوں کے بجائے کسی دوسری چیز کا ’ڈی این اے‘ کرکے انسان کے خدوخال سے متعلق معلومات حاصل کی ہیں۔

عام سائنسی طریقوں میں کسی بھی انسان کے خون، ہڈی، بال اور جسم کے دیگر اعضا سے حاصل کیے گئے نمونوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے اسی انسان سے متعلق معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کسی بھی انسان کے نمونے حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ دوسرے انسان کی قربت یا روابط سے متعلق بھی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

اسی ٹیسٹ کے طریقے سے ہی کسی کا ’ریپ‘ کرنے والے ملزم کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

اور اب ماہرین نے ڈی این اے ٹیسٹ کے اسی طریقہ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے مزید جدید سائنسی طریقے کار استعمال کرتے ہوئے 6 ہزار سال پرانی چیونگم سے اس وقت کے انسان کے خدوخال کی معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سائنس جرنل ’نیچرل کمیونیکیشن‘ میں شائع مضمون کے مطابق یورپی ملک ڈینمارک کے ماہرین نے چیونگم کے ڈی این اے کے بعد 6 ہزار سال قبل کی خاتون کا عکس تیار کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق 6 ہزار سال پہلے کی خواتین کی رنگت سانولی، بال بھورے اور آنکھیں نیلی تھیں —فوٹو: نیچرل کمیونیکیشن

ماہرین کے مطابق 6 ہزار سال پہلے کی خواتین کی رنگت سانولی، بال بھورے اور آنکھیں نیلی تھیں —فوٹو: نیچرل کمیونیکیشن

 

رپورٹ کے مطابق کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے کیے گئے ٹیسٹ میں پہلی مرتبہ ایک دوسری چیز کے ڈی این اے سے انسان کی ساخت کی معلومات حاصل کی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین نے ڈینمارک کے تاریخی مقام کے درخت سے چیونگم حاصل کی اور اس کا ڈین این اے ٹیسٹ کیا گیا۔