ایسٹر پرقبلہ اول میں قربانی یہودیوں کی مذہبی اشتعال انگیزی ہے،اردن

ایسٹر پرقبلہ اول میں قربانی یہودیوں کی مذہبی اشتعال انگیزی ہے،اردن

اردن کی حکومت نے یہودی آباد کاروں کو ایسٹر تہوار کے موقع پر جانور قربان کرنے کی تربیت دینے کی صہیونی پالیسی کی شدید مذمت کی ہے۔ اردنی حکومت کے ترجمان وزیر اطلاعات ونشریات محمد المومنی نے ایک بیان میں کہا کہ یہودی آباد کاروں کا ایسٹر پرمسجد اقصی سے متصل اموی محلات میں جانور قربان کرنے کی تربیت دینا اور یہودیوں کو اس پر اکسانا مذہبی اشتعال انگیزی کے مترادف ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست یہودیوں کو قبلہ اول کی بے حرمتی سے روکنے میں ناکام رہی ہے اور اب یہودی آباد کار قبلہ اول میں جانور قربان کرنے کی ایک نئی رسم شروع کرنے کی اشتعال انگیز تیاری کررہے ہیں۔خیال رہے کہ فلسطین میں قائم صہیونی ریاست کی انتہا پسند یہودی تنظیمیں مسجد اقصی میں تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ایک قدم اور آگے بڑھ کر قبلہ اول میں ایسٹر کی قربانی دینے کے مذموم اور اشتعال انگیز اقدام کی تیاری کررہی ہیں۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیکل سلیمانی کے پرچم تلے جمع یہودی مذہبی گروپوں کے اتحاد نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں علاقائی اور عالمی حالات نے یہودیوں کے لیے جبل المکبر(مسجد اقصی)میں ایسٹر تہوار کے موقع پر جانوروں کی قربانی دینے کی راہ ہموار کردی ہے۔مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ ہیکل سلیمانی کی مسماری کے بعد اس جگہ پر جانوروں کی قربانی دینے کی بار بار کوشش کی گئی ہے مگر بہ وجوہ ایسا نہیں ہوسکا ہے۔ماضی میں یہ گروپ خفیہ طورپر سرگرم رہا ہے مگر حالیہ ایام میں اس کے عناصر کھلے عام اپنے اجلاس منعقد کرتے اور قبلہ اول کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا پرچارک کرتے رہے ہیں۔ مسجد اقصی پردھاووں میں بھی یہ گروپ پیش پیش ہے۔