اپریل میں پاکستان کے ساتھ مختصرٹکراؤ کا خدشہ ہے ،بی ایس ایف کا عندیہ

اپریل میں پاکستان کے ساتھ مختصرٹکراؤ کا خدشہ ہے ،بی ایس ایف کا عندیہ

 بھارت کی سرحدی حفاظتی فورس(بی ایس ایف)کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے کہا کہ پاکستان کیساتھ محدود پیمانے پر اپریل کے مہینے میں ٹکرائو ہوسکتا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سرحد پرہر سال اپریل میں فصل کٹنے کے ساتھ ہی ہمارا پاکستانی فوجیوں اور رینجرز کے ساتھ ٹکراو کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہوں، لیکن ہمیں پھر بھی اپریل میں فصل کی کٹائی ختم ہونے کیساتھ ہی محدود پیمانے پر ٹکرائو ہونے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جنگجووں کا بھارتی حدود میں دراندازی کرنا پاکستانی فوج اور رینجرز کے فعال تعاون کے بغیر ناممکن ہے۔ اور حال کے مہینوں میں دراندازی کی کئی کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں۔کے کے شرماجمعہ کو نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ جب ایک نامہ نگار نے پوچھا کہ کیا یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی فوج اور رینجرز جنگجووں کو سرحد کے اس پار بھیجنے میں مدد کررہے ہیں تو ان کا جواب تھا یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ وہ ان کی مدد کررہے ہیں۔ وہ (پاکستان)بین الاقوامی فورموں پر اس سے انکار کرتا آیا ہے۔ جب پاکستانی فوجی اور رینجرز ہم سے ملتے ہیں تو وہ بھی اس سے انکار کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی حرکتیں پاکستانی فوج اور رینجرز کے فعال تعاون کے بغیر انجام نہیں دی جاسکتیں۔ ڈی جی بی ایس ایف نے کہا کہ جموں میں بین الاقوامی سرحد کا آپریشنل کنٹرول بی ایس ایف کے پاس ہے اور بی ایس ایف نے اس سرحد پر ایک بھی دراندازی کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دی ہے۔ سرحد کے دوسری طرف جنگجووں اور تربیتی مراکز کی موجودگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہمیں مسلسل اطلاعات ملتی ہیں کہ سرحد کے دوسری طرف تربیتی مراکز اور لانچنگ پیڈس ہیں۔ مگر ہم کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ ایک نامہ نگار کے سوال کہ جیش محمد اور لشکر طیبہ کے درمیان ہوئے اتحاد کے مطابق جیش محمد حملے انجام دے گا جبکہ لشکر طیبہ لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گا اور آپ اس کو کس طرح سے دیکھتے ہیں تو کے کے شرما کا جواب تھا میں اس کو ایک غیرمقدس اتحاد کے بطور دیکھتا ہوں۔ا نہوں نے کہا جموں میں پاکستان کی طرف سے لگاتار دراندازی کی کوشش ہوتی رہتی ہیں۔ سرنگیں کھودنے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔ سال میں دو سے تین بار بی ایس ایف جوانوں کو سنائپ فائر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہمیں جوابی کاروائی کرنی ہوتی ہے۔ ماضی قریب میں سرحد پر جب ہمارے فوجیوں کا پاکستان کے ساتھ تصادم ہوا ، تو بی ایس ایف اہلکاروں نے ہر بار مثالی جواب دیا۔