اسرائیلی فورسز نے پرامن فلسطینیوں پر گولیاں برسادیں،

اسرائیلی فورسز نے پرامن فلسطینیوں پر گولیاں برسادیں،

غزہ کی پٹی میں احتجاجی کیمپ پر اسرائیلی گولہ باری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 20ہوگئی00 15سے زائد زخمی ہوگئے ،شہید و زخمی ہونے والوں کو ہسپتال منتقل کردیا ۔فلسطینیوں نے عظیم واپسی کے نام سے چھ روزہ احتجاجی کیمپ لگا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کی  ہنگامی اجلاس میں مذمت،  اسرائیلی سرحد کے قریب شیلنگ سے 20فلسطینیوں کی شہادت و 1500سے زائد کے زخمی ہونے کے واقعے کی آزادنہ تحقیقات کرانے کاحکم دیدیاہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے چھ مقامات پرفلسطینی مظاہرین نے سرحد کی طرف مارچ کیا۔ قابض فوج نے نہتے فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ شروع کی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم20فلسطینی شہید ہوگئے ہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گتریز نے اسرائیلی سرحد کے قریب شیلنگ سے 20 فلسطینیوں کی ہلاکت کے واقعے کی آزادنہ تحقیقات کرانے کا کہا ہے۔گزشتہ روزجمعہ کو غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے 6ہفتے پر مشتمل احتجاج کے آغاز میں اسرائیلی سرحد کی طرف مارچ کیا جس کے نتیجے میں کم ازکم 20 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔دوسری جانب نیو یارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے ایک ہنگامی اجلاس میں تشدد کی مذمت کی ہے۔فلسطین کے صدر محمود عباس نے کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی حفاظت کیلئے  اقدامات میں مدد کریں۔اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر پتھرا ئوکرنے اور بم پھینکنے کا الزام لگایا ہے جبکہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ سرحدی باڑ کے ساتھ پانچ مقامات پر 17 ہزار فلسطینی جمع ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوے کو روکنے کے لیے جس میں ٹائروں کو آگ لگائی جا رہی ہے فوجی صرف ان پر فائر کر رہے ہیں جو دوسروں کو ترغیب دے رہے ہیں۔فلسطینیوں نے سرحد کے قریب پانچ مقامات پر احتجاجی کیمپ قائم کئے ہیں۔ انھوں نے اس مارچ کو 'واپسی کیلئے  عظیم مارچ کا نام دیا ہے۔فلسطینی میڈیا نے کہا کہ سرحد پر سات ہزار لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔بعد ازاں اسرائیلی حکام نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے انتہاپسند گروہ حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔فلسطینی محکمہ صحت کے حکام اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گولہ باری کے باعث ایک فلسطینی کسان ہلاک اور ایک شخص زخمی ہو گیا ہے۔ترجمان کے مطابق یہ کارروائیجمعہ کو جنوبی غزہ میں خان یونس کے علاقے کے قریب ہوئی ہے۔فلسطینی ذرائع کے مطابق مظاہرین پر آنسو گیس بھی پھینکی گئی ہے۔ کچھ نوجوان گروہوں نے احتجاج کرنے والے منتظمین کی احکامات کو نظر انداز کیا کہ وہ سرحدی باڑ کی جانب نہ بڑھیں۔فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی سرحد کے ساتھ چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے مظاہروں کی کال کے بعد سے اس علاقے میں حالات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔غزہ میں بی بی سی کے پروڈیوسر رشدی ابوآلوف کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے کسان اور زخمی ہونے والا شخص کھیتوں میں موجود تھے کہ ٹینکوں سے کی جانے والی شیلنگ کی زد میں آ گئے۔دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر ایک کسان کو مار کر فلسطینیوں کو ڈرانے کا الزام لگایا ہے تاکہ وہ ان مظاہروں میں شریک نہ ہوں۔