حق واپسی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیںکریں گے ، خالد مشعل

حق واپسی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیںکریں گے ، خالد مشعل

اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سابق سربراہ خالد مشعل نے واضح کیا کہ فلسطینی قوم اپنے وطن سے بے دخل کئے  جانے کی کسی بھی سازش کوقبول نہیں کرے گی اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی میں کسی قسم کی افراط و تفریط اور سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے دورہ ترکی کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ صدی کی ڈیل نامی امریکی سازش فلسطینی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کرنے اور ان کے حقوق پر سمجھوتہ کرنے کے لیے ہے، مگر فلسطینی قوم بالخصوص غزہ کے عوام ناکہ بندی کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔خیال رہے کہ یہ تقریب استنبول میں ایک ترک اداریجیھان نوما کے زیراہتمام منعقد کی گئی تھی۔ تقریب میں 1000 سے زاید نمایندہ شخصیات نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ دشمن یہ سمجھتا تھا کہ فلسطینی اس کے لیے ایک تر نوالہ ثابت ہوں گے مگرفلسطینی قوم دشمن کیلئے  لوہے کا چنا ثابت ہوئے ہیں۔ صہیونی دشمن طاقت کے استعمال کے باوجود مزاحمت کی چنکاری نہیں بھجا سکا۔ جس تحریک کو ہمارے آبا اجداد نے شروع کیا تھا آج اسے فلسطین کی نئی نسل اپنے ہاتھ میں لے چکی ہے۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نیتن یاھو کا گمان تھا کہ بحران پوری امت کو ختم یا کمزور کردیں گے۔ اسرائیل کو وائیٹ ہاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں ایک انتہا پسند صدر بھی مل گیا جس کے بعد انہوں نے مل کر قضیہ فلسطین کے تصفیے کی کوششیں شروع کردیں۔ اندھیرے میں صدی کی ڈیل کی کچھڑی پکائی جا رہی ہے۔خالد مشعل نے کہا کہ القدس ہماری روح، ہماری تاریخ، ہمارا مستقبل،ہمارا انجام اور کتاب اللہ کی ایک آیت اور نشانی ہے جسے صہیونی دشمن مسلمانوں سے نہیں چھین سکتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دشمن جانتا کہ اس کی سازشیں تا دیر آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ انہوں نے نئے سرے سے اس کی سازش شروع کی اور فلسطینیوں کے حق واپسی کو ختم کرنے کوشش کی۔ القدس پر غاصبانہ قبضہ کیا اور حماس کے مالی ذرائع ختم کرنے کی سازش کی گئی۔ اس کے نتیجے میں کیا ہوا۔ شہید کا بیٹا شہید اور مجاھد کا بیٹا مجاھد بنتا چلا گیا۔ آج پوری فلسطینی قوم مجاھد بن چکی ہے۔