سلامتی کونسل میں برطانیہ اور روس کے درمیان لفظی جنگ

سلامتی کونسل میں برطانیہ اور روس کے درمیان لفظی جنگ

زہر دیے جانے کے معاملے پر سلامتی کونسل میں برطانیہ اور روس کے درمیان لفظی جنگ چھڑگئی۔روسی مندوب نے کہا ہے کہ تفتیش سے پہلے الزام اور ثبوت سے پہلے سزا برطانیہ کا ہی قانون ہے، آگ سے کھیلو گے تو پچھتاو گے۔ادھر برطانیہ میں زہریلی گیس سے متاثر ڈبل ایجنٹ اور اس کی بیٹی کی طبیعت بہترہوگئی ہے اورجاسوس کی بیٹی جلدگھرمنتقل ہو جائے گی۔برطانیہ میں روس کیڈبل ایجنٹ کی بیٹی تیزی سے صحت یاب ہورہی ہے اور اس کے جلد ہی گھر منتقل ہونے کا امکان ہے۔اسکرپل کی بیٹی یولیا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ بہتر بہتر ہے اور اس کے والد بھی جلد ٹھیک ہو جائیں گے، تاہم بیان میں زہر دیے جانے کے واقعے کا ذکر نہیں کیا گیا۔یولیا نے اپنے عزیز سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی، ڈبل ایجنٹ اور اس کی بیٹی کو زہر دینے میں برطانیہ نے روس کو ملوث ٹھہرایا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی اسکرپل ہی کے مسئلے پر برطانیہ اور روس کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس نے برطانوی الزامات کو احمقانہ قرار دے دیا ۔اقوام متحدہ میں روسی مندوب نے کہا کہ من گھڑت کہانیاں بندکی جائیں،تفتیش سے پہلے الزام اور ثبوت سے پہلے سزا برطانیہ کا ہی قانون ہے۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی واضح کیا ہے کہ اسکریپل کیس کی تحقیقات اسی وقت مانیں گے جب روس کو بھی شامل کیا جائے گا۔روسی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ مارچ سے اب تک 10سے زائد بار کہہ چکے ہیں کہ روس کو شامل کیا جائے مگر ہمارا مطالبہ مسلسل مسترد کیا جا رہا ہے، اس صورت میں حالیہ تحقیقات تسلیم نہیں کرسکتے۔برطانیہ کا کہنا ہے کہ ڈبل ایجنٹ اور اس کی بیٹی تک رسائی سے متعلق روس کی درخواست سے یولیا کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور اس کی جانب سے جواب آنے پر روس کو آگاہ کر دیا جائے گا۔