کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم کے رہنمائوں کا اجلاس بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم

کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم کے رہنمائوں کا اجلاس بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم

او پی سی ڈبلیو کے دی ہیگ میں ہونے والے اجلاس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ سکرپل پر حملے میں کونسا زہر استعمال ہوا؟ اور حملے کے پیچھے کون تھا؟ برطانیہ اور روس بدستور ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امید کی جا رہی تھی کہ برطانیہ میں سابق روسی جاسوس سیرگئی سکرپل اور ان کی بیٹی پر زہریلی گیس کے حملے کے حوالے نئی تفصیلات سامنے آئیں گی، تاہم گزشتہ روز کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم ( او پی سی ڈبلیو ) کے اعلٰی نمائندوں کی ملاقات بے نتیجہ ہی رہی۔ اس تنظیم کے ماہرین نے اکیس مارچ کو سیلسبری کے اْس مقام سے 21 نمونے اکھٹے کیے تھے، جہاں اِن دونوں باپ بیٹی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد ان نمونوں کو جانچ پڑتال کے لیے دو مختلف لیبیارٹریوں میں بھیج دیا گیا۔ تاہم حفاظتی اقدامات کے تحت نہ تو ماہرین اور نہ ہی لیبارٹریوں کے نام ظاہر کیے گئے۔او پی سی ڈبلیو کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان نمونوں سے حاصل ہونے والے نتائج کے بارے میں اگلے ہفتے تک آگاہ کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی ماہرین بتا سکیں گے کہ سکرپل پر حملے میں اعصاب شکن مادہ ’ نوویچوک‘ استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔ برطانوی تفتیش کاروں نے گزشتہ روز ہی کہہ دیا تھا کہ وہ اس زہر کا سراغ لگانے میں ناکام رہے اور وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اس حملے میں استعمال ہونے والا زہر کس ملک میں تیار کیا گیا تھا۔