پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش

پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش

ماسکو: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان کا نام دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی امریکی کوشش ناکام ہو گئی۔ منی لانڈرنگ کے خلاف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس پیرس میں ہوا۔ امریکا اور برطانیہ نے اجلاس کے دوران پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت روکنے میں ناکام ممالک میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کرنی تھی تاہم اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے قرارداد کو اب 3 ماہ کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے۔
وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری کوششیں رنگ لائیں اور دوستوں کی مدد پر ان کے شکر گزار ہیں۔ خواجہ آصف 4 روزہ دورے پر روس میں موجود ہیں۔ روسی دارالحکومت ماسکو سے ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیر خارجہ کہا کہ ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کا معاملہ 3 ماہ کے لیے مؤخر ہو گیا ہے اور جون میں اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، جب کہ ایشیا پیسیفیک گروپ آن منی لانڈرنگ ( اے پی جی) کو جون میں نئی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو کسی ملک پر پابندی عائد کرنے کے اختیارات نہیں تاہم یہ گرے اور بلیک کیٹیگری وضع کرتی ہے، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے خلاف قابل قدر اقدامات کرنے والے ممالک کو گرے کیٹیگری میں شامل کیا جاتا ہے جب کہ اقدامات نہ کرنے والے ممالک کو بلیک کیٹیگری میں ڈال دیا جاتا ہے، بلیک کیٹیگری والے ملک کو بین الاقوامی سطح پر زرِمبادلہ کی نقل و حرکت اور ترسیل میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جی سیون ممالک کے ایما پر بنایا گیا ادارہ ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی نگرانی کرتا ہے، پاکستان اس ادارے کا براہِ راست رکن نہیں۔
قبل ازیں ماسکو میں روسی ہم منصب سرگئی لیوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیچھے نہیں ہٹا تاہم دوسروں کی جنگ اپنی سر زمین پر نہیں لڑ سکتے جب کہ افغانستان کا مسئلہ جنگ سے نہیں مذاکرات سے ہی حل ہوگا۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ افغانستان میں اس وقت تکلیف دہ صورت حال ہے ، وہاں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، منشیات سے دہشت گردوں کو رقوم کی فراہمی پر تشویش ہے، افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستان اور روس دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، بین الاقوامی افواج نے گزشتہ 17 سال میں افغانستان میں کچھ حاصل نہیں کیا اور اب اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے پاکستان اور دوسرے ممالک کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، افغانستان میں طالبان بندوبستی علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ مفاہمتی عمل ہی وہاں قیام امن کے لیے آخری آپشن ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی امن خصوصاً داعش کے خاتمے میں روس کا اہم کردار ہے ، ہم روس کے ساتھ تجارت، توانائی، صنعت، دفاع، دفاعی پیداوار، کلچر اور تعلیم سمیت تمام شعبوں میں تعلقات بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی رکنیت کی حمایت پر روس کے مشکور ہیں، بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔