سلطان قابوس کی زندگی پر ایک نظر

سلطان قابوس کی زندگی پر ایک نظر

گزشتہ روز عمان کے سلطان قابوس بن سعید 79 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ مقامی میڈیا کے مطابق سلطان طویل عرصے سے علیل تھے اور کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔

گذشتہ ماہ وہ بیلجیم میں طبی معائنے اور علاج کروانے کے بعد وطن واپس آئے تھے۔

  انہوں نے 50 سال تک اپنے ملک عمان کی خدمت کی اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔

سلطان قابوس کی زندگی پر ایک نظر:

سلطان قابوس کی خدمات

 

 

 

 

1970 میں عمان کا تخت سنبھالنے والے سلطان قابوس 18 نومبر 1940 کو عمان کے شہر صلالہ میں پیدا ہوئے ۔

گزشتہ طویل عرصے سے سلطنت عمان پر حکمرانی کرنے والے سلطان قابوس نے ابتدائی تعلیم عمان سے ہی حاصل کی ۔ 

انہوں نے 1960 میں  برطانوی شاہی ملٹری اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی اور پھر مغربی جرمنی میں برطانوی فوج میں کچھ عرصہ تربیت حاصل کی۔

1964 میں آبائی وطن واپس آئے اور یہاں انہوں نے اپنا زیادہ تر وقت اسلامی قانون اور عمانی تاریخ کے مطالعہ میں صرف کیا۔

1970 میں 29 سال کی عمر میں انہوں نے اپنے والد سید بن تیمور کا تختہ الٹا تھا جس کے بعد تیل کی دولت کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے عمان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا۔

سلطان قابوس کی خدمات

 

 

 

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ سلطان قابوس بن سعید عمان کے تمام اہم اور بڑے عہدوں پر خود فائز رہے۔ وہ سلطنت عمان کے سلطان کے ساتھ ساتھ وزیراعظم، آرمی چیف، وزیر دفاع، وزیر خزانہ، وزیر خارجہ اور اسٹیٹ بینک کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔

سلطان قابوس غیر شادی شدہ تھے اور ان کا کوئی وارث یا نامزد جانشین نہیں تھا۔ ان کا کوئی دوسرا بھائی بھی نہیں ،البتہ ایک بہن ہے ۔

سلطان قدوس کو ان کی بہترین سیاسی ، اقتصادی ، عسکری، سماجی اور ثقافتی خدمات کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا اور بیشتر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

سلطان قابوس کی خدمات

 

 

 

 

سلطان قابوس کو 2001 میں حکومت پاکستان کی جانب سے نشان پاکستان کا اعزاز دیا گیا تھا جبکہ 2004 میں جواہر لعل نہرو ایوارڈ بھی دیا گیا۔

اکتوبر 2018 میں سلطان قابوس نے اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا  سلطان کی دعوت پر دورہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

نیتن یاہو  گزشتہ 20 برس کے دوران عمان کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم تھے۔

نیتن یاہو دورہ عمان کے دوران سلطان قابوس کی شخصیت اور ان کی دور اندیشی سے کافی متاثر ہوئے تھے