پاکستانی ڈرائیور بھارتی طالبہ کیلئےنجات دہندہ کیسے بنا؟

پاکستانی ڈرائیور بھارتی طالبہ کیلئےنجات دہندہ کیسے بنا؟

دبئی کی سرزمین پر ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور ایک بھارتی طالبہ کو اس کے اہم ترین دستاویزات جو وہ ٹیکسی میں بھول گئی تھی، وقت پر لوٹا کر اس کے لئے نجات دہندہ بن گیا۔

خلیجی ویب سائٹ ’ گلف نیوز‘ کے مطابق گزشتہ ہفتے دبئی میں راشیل روز نامی بھارتی لڑکی برطانیہ سے چھٹیاں گزارنے دبئی اپنے والدین کے پاس آئی ہوئی تھی، وہ اپنی سالگرہ منانے دوستوں کے ساتھ باہر گئی اور ایک ٹیکسی میں اپنا پرس بھول گئی۔

جس ٹیکسی میں راشیل نے سفر کیا تھا اس کا ڈرائیور مدثر خادم نامی پاکستانی تھا۔

گلف نیوز کے مطابق کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد مدثر نے راشیل کا پرس اسے واپس لوٹا دیا جس میں راشیل کا برطانیہ کا ویزا بھی موجود تھا ۔

راشیل روز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تھی اور جلدی میں اپنا پرس ٹیکسی میں ہی بھو ل گئی تھی جس میں اس کا برطانیہ کا ویزا سمیت وہاں کی رہائش کا پرمٹ کارڈ ’ اسٹوڈنٹ ویزا ‘ ، امارات کا سٹیزن شپ کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، ہیلتھ انشورنس کارڈ، کریڈٹ کارڈ اور 10 ہزار سے زائد دیگر ممالک کی کرنسی شامل تھی ۔

راشیل کا کہنا ہے کہ اپنے اتنے قیمتی کاغذات کھو دینا بہت بڑ ی پریشانی کی بات تھی، ان کاغذات کی میرے پاس کوئی کاپی بھی نہیں تھی اور اس بھول پر میرے گھر والے بھی نہایت پریشان اور مجھ سے ناراض تھے۔

انتہائی اہم دستاویزات کھونے پر راشیل نے پولیس کی مدد بھی حاصل کر لی تھی کیونکہ اگلے ہی روز ان کو برطانیہ جا کر امتحان میں اپنی حاضری یقینی بنانی تھی۔

پاکستانی ڈرائیور مدثر خادم کا کہنا ہے کہ ’لڑکی کو چھوڑنے کے بعد میں نے 2 مزید رائڈ مکمل کیں جس کے بعد مجھے احساس ہوا کے کوئی اپنا پرس بھول گیا ہے، میں نے پرس کھول کر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ اندازہ ہو سکے کہ یہ کس کا پرس ہے۔

راشیل سے رابطہ کرنے کے لیےکوئی نمبر یا ذریعہ نہ ملنے پر پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا ، مگر وہاں سے بھی لڑکی کو ڈھونڈنے میں کوئی خاص مدد نہیں مل سکی ۔‘

پاکستانی ڈرائیور بھارتی طالبہ کیلئےنجات دہندہ کیسے بنا؟

 

 

 

 

ٹیکسی ڈرائیور نے مزید کہا کہ پھر میں نے خود ہی راشیل کا امارات کے شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے ان کا موبائل نمبرڈھونڈنا شروع کردیا مگر کوئی بھی ڈیپارٹمنٹ سیکیورٹی کی وجہ سے ان کا موبائل نمبر دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔

ڈرائیور کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ڈیوٹی ختم کر کے گھر جانے ہی والا تھا کہ اسے ایک اماراتی ڈیپارٹمنٹ سے کال آئی جس کے بعد اسے راشیل کا نمبر اور اس کے گھر کا پتہ دیا گیا جہاں اس نے وہ پرس لوٹا دیا ۔

مدثر نے مزید کہا کہ راشیل کے والد ان کے پرس لوٹانے پر بہت خوش ہوئے اور انعام کے طور پر اسے 600 درہم بھی دیئے جسے لینے سے میں نے منع کر دیا تھا اور کہا کہ راشیل میری چھوٹی بہنوں جیسی ہے مگر انہوں نےا نعام وصول کرنے پر اصرار کیا۔

بعد ازاں کیرالہ سے تعلق رکھنے والے بھارتی خاندان نے امارتی ایجنسی کو بھی ایک خط لکھا جس میں انہوں نے مدثر خادم کی ایمانداری کی تعریف کی اور اس کے اس عمل کو سراہا ۔