ڈیٹا لیکس،فیس بک کے شیئرز کی قیمتوں میں مسلسل کمی

ڈیٹا لیکس،فیس بک کے شیئرز کی قیمتوں میں مسلسل کمی

صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنے والی ایک امریکی کنزیومر پروٹیکشن ایجنسی کی جانب سے فیس بک صارفین کے ڈیٹا لیک اسکینڈل کی تحقیقات کے اعلان کے بعد سے فیس بک کے شیئرز کی قیمتوں میں مسلسل کمی آرہی ہے۔فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی)نے گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ان رپورٹس کی تصدیق کردی ہے کہ وہ صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کے معاملے کی انکوائری کر رہا ہے۔واضح رہے کہ فیس بک نے 2011 میں مذکورہ کنزیومر ایجنسی کے ساتھ صارفین کی معلومات اور ذاتی ڈیٹا کو خفیہ رکھنے کا معاہدہ کیا تھا۔دوسری جانب فیس بک کے 5 کروڑ صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کے انکشاف کے بعد سے کمپنی کے شیئرز کی قیمت مسلسل گررہی ہے ۔فیس بک کے شیئرز کی قیمت گزشتہ سال جولائی کے بعد سے پہلی بار 150 ڈالر فی شیئرز کی سطح سے نیچے آگئی ہے اور 10 دن میں فیس بک کو 100 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق برطانوی الیکشن کنسل ٹنسی فرم کیمبرج اینالی ٹیکا نے کروڑوں فیس بک صارفین کی ذاتی معلومات حاصل کرکے اسے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں الیکشن پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا۔اس حوالے سے برطانوی اور یورپی ادارے فیس بک اور کیمبرج اینالیٹیکا کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں کہ کیا 2016 میں امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی کامیابی اور برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ہونے والے ریفرنڈم 'بریگزٹ' کو ممکن بنانے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کا ڈیٹا چوری کرکے نتائج کو متاثر کیا گیا۔اس حوالے سے دونوں کمپنیوں کی جانب سے کسی بھی غلط کام کی تردید کردی گئی۔دوسری جانب بانی فیس بک مارک زکربرگ نے بھی اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان تمام ایپلی کیشنز کی تحقیقات ہوں گی جو 2014 سے قبل دستیاب تھیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کیمبرج انالی ٹیکا اسکینڈل کے بعد مزید حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے اور صارفین کا اعتماد بحال کیا جائے گا۔ایک روز قبل مارک زکربرگ کی جانب سے 7 برطانوی اور 3 امریکی اخباروں میں معافی نامے پر مشتمل فل پیج اشتہار بھی شائع کروایا جاچکا ہے۔