” بریکنگ نیوز: فورڈ حکومت گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی کا حُکم نافذ ہونے کو ہے۔“

” بریکنگ نیوز: فورڈ حکومت گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی کا حُکم نافذ ہونے کو ہے۔“

ذرائع کا کہنا ہے کہ فورڈ حکومت ایمرجنسی بریک کے ساتھ ساتھ صوبہ بھر میں  گھروں سے باہر نہ نکلنے کا حُکم دینے کا اعلان کرنے والی ہے۔ اِس حُکم کی مُدّت ایک ماہ ہے جیسا کہ جنوری میں کووڈ 19 کی تیسری لہر کو روکنے کے لئے نافذ کیا گیا تھا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے یہ حُکم جمعرات رات 12 بجے سے نافذ ہوگا اور گروسری اسٹورز اور فارمیسیوں کے علاوہ ذاتی خریداری کی تمام خوردہ دکانوں کو بند کردیا جاۓ گا۔ بڑے اسٹورز کو صرف ضروری سامان کی فروخت کے لئے کھولنے کی اجازت ہوگی۔ توقع ہے کہ یہ حُکم چار ہفتوں تک نافذ رہے گا یعنی یہ 6 مئی کو ختم ہوسکتا ہے۔ پابندیوں کا تعین کرنے کے لئے فورڈ کی کابینہ نے منگل کی دوپہر اجلاس کیا اس کے بعد پریمیٸر فورڈ نے کہا کہ ٹورنٹو ، پیل اور یارک علاقوں میں تیزی سے بڑھنے والے کیسز کو روکنے کے لئے مزید کچھ کرنا ضروری ہے۔ کابینہ نے بدھ کے روز ایک بار پھر اجلاس کیا اور سال بھر کے اندر میں تیسری مرتبہ ایمرجنسی کی منظوری دے دی۔
                اونٹاریو میں کورونا کیسز میں مارچ کے مہینے کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں اپریل کے اوائل تک اسپتال آئی سی یو میں مریضوں کی تعداد 500 سے زیادہ ہوتی ہے۔ کورونا میں اضافے کے باعث صوبے کے صحت عامہ کے 34 مقامی میڈیکل افسران میں سے 3 نے دو دن پہلے تمام اسکولوں کو بند کرنے کا کہا۔ منگل کے دن صوبے میں مریضوں کی تعداد 26،000 سے زیادہ تھی۔ جنوری کے شروع میں یہ صرف ایک بار 30،000 سے تجاوز کر گٸ تھی۔ متعدی بیماریوں کے ماہر اور صوبائی ویکسین ٹاسک فورس کے ممبر ڈاکٹر اسحاق بوگوچ نے کہا کہ آج مریضوں کو اسپتال میں بہت زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہے۔ اسٹے ایٹ ہوم آرڈر  کے علاوہ کوٸ چارہ نہیں۔ ہم نے یہ حکم جنوری میں نافذ کیا تھا اور یہ جنوری کے پورے مہینے نافذ رہا تھا۔ "
         کورونا کی تیسری لہر بنیادی طور پر کورونا کی زیادہ خطرناک اور زیادہ تیزی سے پھیلنے والے واٸرس کہ جسے B.1.1.7 کے نام سے جانا جاتا ہے، سے وابستہ ہے۔ ماہرین امراضیات کے مطابق ، یہ سب سے پہلے ستمبر 2020 میں ساؤتھ ویسٹرن انگلینڈ میں دریافت کیا گیا۔ اب یہ اونٹاریو میں تمام نئے کورونا کیسز میں کم از کم دو تہائی ہے۔  
          پریمیٸر فورڈ،  وزیر صحت کرسٹین ایلیٹ ، سالیسیٹر جنرل سلویا جونز اور چیف میڈیکل آفیسر آف ہیلتھ ڈاکٹر ڈیوڈ ولیمز بدھ کے روز 2 بجے اس حکم کے بارے میں بات کریں گے۔