”اسکول کھلے رہیں گے یا نہیں؟ اسٹیفن لیکس اسکول کھلے رکھنے کے خواہاں لیکن ڈگ فورڈ کے مُطابق اسٹے ایٹ ہوم ضروری ہے“

”اسکول کھلے رہیں گے یا نہیں؟ اسٹیفن لیکس اسکول کھلے رکھنے کے خواہاں لیکن ڈگ فورڈ کے مُطابق اسٹے ایٹ ہوم ضروری ہے“

اونٹاریو میں جمعرات سے نافذ ہونے والا اسٹے ایٹ ہوم ایک ماہ کے لِیۓ نافِذالعمل ہوسکتا ہے جیسا کہ جنوری میں کورونا کی تیسری لہر کو روکنے کے لئے نافذ کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حُکم جمعرات رات 12 بجے سے نافذ ہوگا اور گروسری اسٹورز اور فارمیسیوں کے علاوہ تمام خوردہ دکانوں کو بند کردیا جاۓ گا۔ بڑے اسٹورز کو صرف ضروری سامان کی فروخت کے لئے کھولنے کی اجازت ہوگی۔ توقع ہے کہ یہ حُکم  چار ہفتوں تک جاری رہے گا مطلب یہ 6 مئی کو ختم ہوسکتا ہے۔ پابندیوں کا تعین کرنے کے لئے فورڈ کی کابینہ نے منگل کی دوپہر اجلاس کیا ، اس کے بعد پریمیٸر فورڈ نے کہا کہ ٹورنٹو ، پیل اور یارک علاقوں میں تیزی سے بڑھتے ہُوۓ کورونا کیسز کو روکنے کے لئے مزید کچھ کرنا ضروری ہے۔ کابینہ نے بدھ کے روز ایک بار پھر اجلاس کیا اور ایک سال کے عرصے میں تیسری مرتبہ ایمرجنسی کی منظوری دے دی جس کی رُو سے حکومت کو اسٹے ایٹ ہوم آرڈر نافذ کرنے کی اجازت ہوگی۔ وزیر تعلیم اسٹیفن لیکس نے بدھ کی صبح ایک نیوز چینل کو بتایا کہ اسٹے ایٹ ہوم آرڈر میں کسی بھی سرکاری اسکول کو بند ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس میں اسکولوں کی بندش شامل نہیں ہوگی۔ ہمارا وعدہ تھا کہ اسکول کھلے رکھیں گے اور انہیں محفوظ رکھیں گے۔ 
            ٹورنٹو ، پیل اور ویلنگٹن۔ ڈفرن گیلف میں صحت عامہ کے افسران نے ان علاقوں میں تمام اسکولوں کو گُزشتہ دو روز کے دوران بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ یارک ریجن ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ نے بدھ کو ایک تحریک بھی منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اُنھیں آن لائن کلاسز کرنے کی اجازت دی جائے۔ بدھ کے روز کورونا وائرس کے انفیکشن کے تمام مُصدّقہ کیسز میں سے 9.1 فیصد میں سرکاری اسکولز کے طلبا اور عملہ شامل تھے۔ اونٹاریو میں روزانہ کورونا کیسز میں مارچ کے مہینے کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں اپریل کے اوائل تک اسپتال آئی سی یو میں مریضوں کی تعداد 500 سے زیادہ ہے۔ منگل کے دن صوبے میں کورونا کیسز 26،000 سے زیادہ تھے۔ جنوری کے شروع میں  یہ صرف ایک بار 30،000 سے تجاوز کر گیا ہے۔        
           اونٹاریو میں بدھ کے روز کورونا کے 3،215 کیسز رپورٹ ہوئے۔ متعدی بیماریوں کے ماہر اور صوبائی ویکسین ٹاسک فورس کے ممبر ڈاکٹر اسحاق بوگوچ نے کہا کہ اِس وقت مریضوں کو اسپتال میں بُہت زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہے ، اسٹے ایٹ ہوم کے علاوہ کوٸ آپشن نہیں۔ "
                انفیکشن کی تیسری لہر بنیادی طور پر کورونا کے سب سے زیادہ خطرناک اور سب سے زیادہ پھیلنے والے واٸرس سے وابستہ ہے جسے B.1.1.7 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ماہرین امراضیات کے مطابق ، یہ سب سے پہلے ستمبر 2020 میں ساؤتھ ویسٹرن انگلینڈ میں دریافت کیا گیا۔ اب یہ اونٹاریو میں کورنا کے تمام نئے کیسز میں سے کم از کم دو تہائی ہوتا ہے۔
             برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن نے کہا کہ انہوں نے اسٹاپ اٹ ہوم آرڈر کی حمایت کی لیکن وہ ضروری سمجھے جانے والے کاروبار کی ایک مُختصر فہرست دیکھنا چاہتے ہیں۔ ضروری فہرست بُہت زیادہ وسیع ہے"۔ پریمیٸر فورڈ ، وزیر صحت کرسٹین ایلیٹ ، سالیسیٹر جنرل سلویا جونز اور چیف میڈیکل آفیسر آف ہیلتھ ڈاکٹر ڈیوڈ ولیمز بدھ کے روز 2 بجے اس حکم کے بارے میں بات کریں گے۔