جسٹن ٹروڈو کے ساتھ بھارت میں ذِلت آمیز سلوک

جسٹن ٹروڈو کے ساتھ بھارت میں ذِلت آمیز سلوک

نئی دلی: کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو ان دنوں سرکاری دورے پر بھارت میں موجود ہیں لیکن میزبان حکومت کی جانب سے انہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ٖٖٖ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق 17 فروری کو فیملی سمیت 7 روزہ دورے پر بھارت آنے والے کینیڈین وزیر اعظم کا ایئرپورٹ پر نہ تو بھارتی ہم منصب نے استقبال کیا اور نہ کوئی سینئر وزیر وہاں پہنچا بلکہ ایک جونیئر بھارتی وزیر نے ان کا استقبال کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی عام طور پر مہمان ہم منصبوں کی آمد کے موقع پر خود ان کا استقبال کرنے ایئرپورٹ آتے ہیں اور گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کا انہوں نے ایئرپورٹ پر گلے لگا کر استقبال کیا تھا لیکن جسٹن ٹروڈو کے لئے انہوں نے خیرمقدمی ٹوئٹ تک نہیں کی۔ جسٹس ٹروڈو اور بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات بھی سرکاری دورے کے آخری روز یعنی جمعہ 23 فروری کو وزیر اعظم ہاؤس میں ہو گی جس کے بعد وہ واپس کینیڈا روانہ ہو جائیں گے۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں میں بھی نریندر مودی کی جانب سے کینیڈین ہم منصب کو نظرانداز کیے جانے کو سراہا جا رہا ہے جب کہ حکمراں جماعت بی جے پی نے جسٹن ٹروڈو کو بے عزت کرنے یا انہیں نظرانداز کرنے کے تاثر کی تردید کی ہے۔ جسٹن ٹروڈو نے اپنے دورے کے ابتدائی 4 روز کے دوران تاج محل سمیت مختلف مقامات کی سیر کی اور شخصیات سے ملاقاتیں کیں، تاج محل کے دورے کے بعد انہوں نے ایک ٹوئٹ بھی کی اور کہا کہ وہ پہلی مرتبہ 35 سال قبل تاج محل آئے تھے اور آج خاندان کے ساتھ یہاں آکر خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ بدھ کو کینیڈین وزیر اعظم کو نظرانداز کرنے کے حوالے سے بھارت کے کینیڈا کے لئے سابق سفیر وشنو پرکاش نے کہا ہے کہ کینیڈین حکومت بھارتی پنجاب میں سکھوں کی علیحدگی پسند تنظیم خالصتان موومنٹ کی سرپرستی کر رہی ہے اور جسٹن ٹروڈو کی حکومت میں اس میں شدت آ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹورنٹو میں گزشتہ سال اپریل میں خالصتان موومنٹ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔ ادھر کینیڈا میں بھی جسٹن ٹروڈو کے سرد استقبال کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور اس حوالے سے ورلڈ سکھ آرگنائزیشن کے رہنما بلپریت سنگھ بوپاری کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے مقابلے میں جسٹن ٹروڈو کی کابینہ میں زیادہ سکھ ہیں اور ان کا بھارت میں سرد استقبال یہاں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔