فیڈرل الیکشن2019ء ، ایڈوانس پولنگ مکمل، ریکارڈ ووٹنگ

فیڈرل الیکشن2019ء ، ایڈوانس پولنگ مکمل، ریکارڈ ووٹنگ

ایڈوانس پولنگ کے لئے 4دن مختص تھے، صبح 9بجے سے رات9بجے تک پولنگ کا وقت مقرر تھا، پولنگ سٹیشنز کی تعداد بھی بڑھائی گئی
اونٹاریو(سٹاف رپورٹر)کینیڈا کے حالیہ وفاقی الیکشن کے سلسلے میں ہونیوالے ایڈوانس پول میں ٹرن آئوٹ گزشتہ عام انتخاب کی نسبت29فیصد زائد رہا۔ الیکشن کینیڈا کے مطابق گزشتہ چار دن ملک بھر میں ایڈوانس پولنگ ہوئی جس میں مجموعی طور پر 4.7ملین ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہ اعداد و شمار 2015ء کے عام انتخاب کے دوران ایڈوانس پولنگ میں پول کئے گئے ووٹوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ عام انتخابات کے دوران ایڈوانس پولز میں 3.65ء ملین افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ ان ووٹرز میں آن کیمپس یا ریٹرننگ آفسز میں ووٹ ڈالنے والے افراد کو شامل نہیں کیا گیا۔ کالج اور یونیورسٹی کمپسز میں قائم پولنگ سٹیشن میں 111300ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا ۔2015ء میں 70000افراد نے کیمپس میں قائم سٹیشنز میں ووٹ کاسٹ کیا تھا۔ رواں سال ایڈوانس پولنگ سٹیشنز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔ 2015ء میں ایڈوانس پولنگ کیلئے 4946ء پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے تھے جبکہ حالیہ ایڈوانس پولنگ کیلئے قائم کئے گئے سٹیشنز کی تعداد6135 تھی۔ ایڈوانس پولنگ کا آغاز11اکتوبر سے ہوا تھا جو14اکتوبر تک جاری رہی۔دونوں الیکشنز میں ایڈوانس پولنگ کیلئے4دن مختص کئے گئے تھے تاہم حالیہ الیکشن میں ایڈوانس پولنگ کا دورانیہ بڑھایا گیا۔ گزشتہ الیکشن میں پولنگ کا آغاز دن کو ہوتا اور رات8بجے پولنگ بند کر دی جاتی تھی تاہم حالیہ ایڈوانس پولنگ کا آغاز صبح9بجے کیا گیا اور پو لنگ کا وقت رات9بجے تک تھا۔چیف الیکٹورل آفیسر سٹیفانے پیرالٹ کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ شہری ایڈوانس پولنگ کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ پولنگ کے اوقات میں اضافے سے شہریوں کو اس آپشن کے استعمال میں مزید آسانی ملی۔ میں بہترین منصوبہ بندی پر ریٹرننگ آفیسرز اور اس بڑے عمل کو ممکن بنانے والے ہزاروں الیکشن ورکرز کا مشکور ہوں۔


وفاقی الیکشن میں لبرل اور کنزرویٹو پارٹی میں کانٹے دار مقابلے کا امکان
سروے نتائج کی اوسط جاری، مجموعی تناسب میں کنزرویٹو، نشستوں پر لبرل پارٹی کو برتری حاصل
ملک میں واضح اکثریتی حکومت کے امکانات کم، این ڈی پی اور بلاک کیوبیکس بھی سرگرم
اونٹاریو(سٹاف رپورٹر)وفاقی الیکشن2019ء میں لبرل پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی کے درمیان کاٹنے دار مقابلے کا امکان ہے۔نجی ٹی وی کی جانب سے رواں ماہ کئے گئے تمام سروے رپورٹس کی بنیاد پر ایک مجموعی رپورٹ تیار کی گئی ہے جس کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے جس کے باعث کوئی بھی واضح اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی۔جائزہ رپورٹ کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں کو سروے میں33فیصد سے کم نمبر ملے جس کے باعث ملک میں اکثریتی جماعت کی حکومت بننے کے امکانات کم معلوم ہوتے ہیں۔ نیو ڈیمو کریٹس اور بلاک کیوبیکس کی انتخابی مہم میں جان پڑتی نظر آ رہی ہے جبکہ گرین پارٹی بھی اپنی مقبولیت کی شرح پر قائم ہے۔سروے نتائج کی اوسط شرح کے مطابق کنزرویٹو پارٹی32.2فیصد کیساتھ پہلے، لبرل پارٹی31.4ء فیصد کیساتھ دوسرے جبکہ این ڈی پی 17.4فیصد کیساتھ تیسرے،گرین پارٹی9.1فیصد کیساتھ چوتھے، بلاک کیوبیکس6.6فیصد کیساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔نشستوں کے حوالے سے جمع کئے گئے سروے نتائج کے مطابق لبرل پارٹی کو 135 ، کنزرویٹو پارٹی کو132، این ڈی پی کو 34 جبکہ بلا کیوبیکس کو33نشستیں ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔جن مجموعی سروے رپورٹس سے یہ تناسب لیا گیا ان میں سب سے تازہ سروے میں کنزرویٹو اور لبرل پارٹی 31،31فیصد کیساتھ برابر کھڑے نظر آتے ہیں ۔ تمام سروے رپورٹس کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں میں کانٹے دار مقابلہ ہوگا اور نشستوںپر کامیابی کے اعتبار سے اس وقت تک لبرل پارٹی کو سروے میں کنزرویٹو پارٹی پر سبقت نظر آتی ہے تاہم سروے رپورٹس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شائد کسی بھی پارٹی کے لئے واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنانا ناگزیر ہو ۔ سروے نتائج کے بعد بھی الیکشن تک10رو باقی ہیں جس کے باعث حتمی نتائج سروے رپورٹس سے مختلف ہو سکتے ہیں ۔ لبرل پارٹی کے سربراہ عوام کو یہ باور کروانے میں سرگرم ہیں کہ کسی بھی دوسری جماعت کو ووٹ دینے کا مطلب کنزرویٹو پارٹی کو موقع دینے کے متراف ہے لہذا لبرل پارٹی کو ووٹ دیا جائے دیکھنا یہ ہے کہ وہ عوام میں یہ تاثر قائم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں ۔