کیوبیک کا مذہبی پابندیوں کا بل تشویشناک ہے، مذہبی قائدین

کیوبیک کا مذہبی پابندیوں کا بل تشویشناک ہے، مذہبی قائدین

اونٹاریو میں مختلف مذہبی قائدین نے کیوبیک اسمبلی کے مذہبی پابندیوں سے متعلق متنازع بل کیخلاف اونٹاریو اسمبلی سے متفقہ قرارد داد کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے۔ نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمزکے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفی فاروق کا کہنا ہے کہ کیوبیک اسمبلی سے منظور ہونے والے بل21کا مطلب یہ ہے کہ اب کیوبیک میں رہنے والے پگڑی، کپاہ یا حجاب نہیں پہننے والوں کو دیگر کینیڈین شہریوں جیسے حقوق حاصل نہیں ہونگے۔ہم ان تمام سیاسی قائدین کیساتھ ہیں جو اس قانون کیخلاف کھڑے ہیں۔ ہم اونٹاریو اسمبلی میں اس بل کیخلاف قرار داد پیش کرنے پر اونٹاریو این ڈی پی کی سربراہ اینڈریا ہارورتھ کے شکر گزار ہیںکیونکہ یہ آئین میں دی گئی مذہبی و ثفاقتی آزادیوں کی عکاس ہے۔ ورلڈ سکھ آرگنائزیشن اونٹاریو کی وائس پریذیڈنٹ شرنجیت کور کا کہنا ہے کہ کیوبیک کا بل21خوفناک ہے اگر اس کو چیلنج نہیں کیا گیا تو اس کے نتیجے میں ایسے افراد جو مختلف مذہبی علامات پہنتے ہیں ان کے حقوق سلب ہونگے اور معاشرے میں عدم برداشت بڑھے گی۔ بطور کینڈین شہری ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس قانون کیخلاف مضبوطی سے کھڑے ہوں جو معاشرے میں عدم برداشت پیدا کرنے کا باعث بنے۔ٹورانٹو بورڈ آف ربیز کے سیکرٹری ربی اپیل کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے نجی مذہبی عقائد کو بنیاد بنا کر کسی بھی شہری کو اس دور میں ایسی ملازمت جس کا وہ اہل ہو اس سے دور نہیں کیا جا ناچاہئے۔ہم مذہبی اقلیتوں کیخلاف نسلی امتیاز کی سختی سے مذمت کرتے ہیںاور اونٹاریو اسمبلی کی اس قانون کیخلاف قرارداد کی حمایت کرتے ہیں تاکہ کینیڈا کو ایسا ملک بنایا جائے جہاں تمام عقائد کے ماننے والے اپنی خواہش کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔