کینیڈا نے بھی روسی سفارتکاروں کو ملک بدری کے احکامات جاری کردیئے

کینیڈا نے بھی روسی سفارتکاروں کو ملک بدری کے احکامات جاری کردیئے

برطانیہ میں سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی پر حملے کا ردعمل اب بھی جاری ہے اور برطانیہ کے بعد امریکا، جرمنی، کینیڈا اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے بھی روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 60 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے اور سیٹل میں روسی قونصلیٹ کو بند کرنے کا حکم دیا ہے امریکی حکام کے مطابق امریکا میں روسی انٹیلیجنس سروسز جارحانہ انداز میں بڑھ رہی ہیں جنہیں روکنا بہت ضروری ہے واشنگٹن میں تعینات روسی سفیر نے امریکا کی جانب سے اپنے ملک کے سفارتکاروں کی بیدخلی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس اقدام پر شدید احتجاج کیا روسی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکا روس کے ساتھ تھوڑے بہت اچھے تعلقات بھی خراب کر رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ امریکا صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اس لیے امریکا کے خلاف روس کا ردعمل بھی برابر کا ہونا چاہیے۔برطانیہ میں روسی سفیر اور ان کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے رد عمل میں یورپی یونین میں شامل کئی ممالک نے بھی روسی سفارتکاروں کی ملک بدری کا حکم جاری کر دیا ہے جرمنی کی وزارت خارجہ نے 4 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ فرانس نے بھی 4 روسی سفارتکاروں کی ملک بدری کا فیصلہ کیا ہے پولینڈ کے وزیر خارجہ نے بھی 4 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ڈنمارک اور اٹلی نے 2، 2، کینیڈا نے 4 اور یوکرین نے 13 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے لیتھونیا نے بھی 3 روسی سفارتکاروں کی ملک بدری کا اعلان کرتے ہوئے 44 روسی شخصیات پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے روسی حکام کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک سے سفارتکاروں کی بیدخلی پر آئندہ کچھ روز میں مناسب ردعمل دیں گے روس کے مطابق سفارتکاروں کی بیدخلی کے معاملے پر ہر ملک کو جواب دیا جائے گا خیال رہے کہ 14 مارچ کو برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے روس پر اپنے سابق جاسوس اور ان کی بیٹی پر اعصابی گیس کے حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے روس کے 23 سفارتکاروں کو ایک ہفتے میں برطانیہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے برطانوی وزیراعظم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ردعمل میں برطانیہ کے 23 سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔