سنتھیا رچی کے بارے میں عدالت نے کیا فیصلہ دیدیا ۔۔۔؟

سنتھیا رچی کے بارے میں عدالت نے کیا فیصلہ دیدیا ۔۔۔؟


اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنتھیا ڈی رچی کو ملک بدر کرنے کے وزارت داخلہ کے آرڈر پر حکم امتناع میں 13 اکتوبر تک توسیع دے دی۔ عدالت نے سنتھیا ڈی رچی کو گزشتہ حکم نامے کے تحت بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا ۔کیس کی سماعت  اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت داخلہ کا کام ہے کہ اس کیس میں تحقیقات کرے سنتھیا نے سنجیدہ نوعیت کے الزامات لگائے ہیں کیا حکومت نہیں چاہتی کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں اس موقع پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ماتحت عدالت میں دو سماعتیں ہو چکیں رحمان ملک کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوئی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سنتھیا رچی نے ویزہ میں توسیع مسترد کرنے  کے خلاف اپیل دائر کی۔ سیکرٹری داخلہ کے پاس سنتھیا کی اپیل زیر سماعت ہے یہ درخواست بھی نمٹا دی جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ بزنس ویزہ کے حوالے سے وزارت داخلہ کی پالیسی کیا ہے؟جس پر وزارت داخلہ کے  نمائندہ نے عدالت کو بتایا کہ سنتھیا کے بزنس ویزہ کے لیے چیمبر آف کامرس شگاگو کا  لیٹر ضروری تھا جو اس نے دیاپاکستان میں جس کمپنی نے سپانسر کیا تھا اس کا لیٹر بھی سنتھیا کی جانب سے دیا گیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہاں کوئی بھی بزنس ویزہ پر آکر کچھ بھی کر سکتا ہے؟اگر کوئی ادھر آکر کوئی اور کام کرتا ہے تو وزارت داخلہ کیا کارروائی کرتا ہے؟ابھی تک وزارت داخلہ نے اس نوعیت کے کتنے ویزہ کینسل کیے ہیں جس پر نمائندہ وزارت داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تفصیلات میرے پاس نہیں ہیں یہ پہلا کیس ہے جس میں سیاسی بیان بازی کا معاملہ سامنے آیا ہے پیپلز پارٹی کی سنتھیا رچی کو ملک بدر کرنے کی درخواست عدالت نے نمٹا دی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کی درخواست پر آرڈر جاری کر دیا وہ غیر موثر ہو چکی  ہے ، پیپلز پارٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہماری درخواست زیرالتوا رکھی جائے ہم نے سنتھیا کو بیان بازی سے روکنے کی بھی استدعا کی تھی ۔کیس کی مزید سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ۔