کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی

کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی کراچی کے ہوٹل سے گرفتاری کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی۔تفصیلات کے مطابق 18 اکتوبر کو ن لیگ کی قیادت نے مزار قائد پر حاضری دی تھی۔اس دوران کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے نعرے بازی کی گئی تھی۔بعدازاں انہیں ہوٹل سے گرفتار کیا گیا۔اس کے بعد ایک تاثر دیا گیا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری پولیس نے رینجرز کے دباؤ پر کی۔جس کے بعد سندھ کے ایڈیشنل آئی جی اور ڈی جی آئی جی رینک کے تمام افسران نے چھٹیوں پر جانے کی درخواست کی تھی۔ تاہم آرمی چیف نے واقعے کانوٹس لیا اور اس طرح آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے اپنی چھٹی کا فیصلہ مؤخر کردیا تھا۔ سندھ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ سندھ پولیس کے افسران نے انکوائری مکمل ہونے تک چھٹی کا فیصلہ مؤخر کیا۔کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر ملبہ ڈالتے رہے جب کہ سندھ حکومت نے رینجرز پر الزام عائد کیا اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ آئی  جی سندھ کو اغوا کرکے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے مجبور کیا گیا اور اب کیپٹن (ر) صفدر کی کراچی کے ہوٹل سے گرفتاری کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی ہے۔کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا آپریشن 46 منٹ تک جاری رہا۔ان کی گرفتاری کا آپریشن صبح 6 بج کر 8 منٹ پر شروع ہوا جب ہوٹل میں پولیس کی دو موبائلیں داخل ہوئیں۔اس کے بعد 6 بج کر 46 منٹ پر پولئس ٹیم پندرہویں فلور پر مریم نواز کمرے کے باہر پہنچیں۔مریم نوا زکے کمرے کے باہر سیاہ لباس اور جوگر پہننا شخص فون پر ہدایات لیتا رہا۔6 بج کر 48منٹ پر اہلکار دورازہ توڑ کر کمرے میں داخل ہوئے۔6 بج کر 50منٹ پر کیپٹن (ر) صفدر کو کمرے سے باہر نکال کر حراست میں لیا گیا۔آپریشن کے دوران لفٹ اور لابی میں سادہ لباس میں ایک شخص کیپٹن (ر) صفدر کی ویڈیو بھی بناتا رہا۔