بھارتی ناظم الامور اور کلبھوشن یادیو میں شدید تلخ کلامی

بھارتی ناظم الامور اور کلبھوشن یادیو میں شدید تلخ کلامی

 بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے غصے میں بھارتی ناظم الامور کو کھری کھری سنا دیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی ناظم الامور کا بھارتی دہشت گرد کلبھوش یادیو کو قونصلر رسائی کو سبوتاز کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ کلبھوشن نے بھارتی سفارتکاروں کا گھنونا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ بھارتی ہائی کمیشن کے سفارتکار کو کلبھوشن سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔بھارتی نظام الامور کے اصرار پر دو بھارتی سفارتکاروں کی کلبھوشن یادیو سے ملاقات کرائی گئی۔ بھارتی نظام الامور گورو آہلو والیا اور کلبھوشن یادیو کے درمان تلخ کلامی بھی ہوئی۔بھارتی نظام الامور نے کلبھوشن یادیو کو دماغی طور پر غیر حاضر اور پاگل کہہ دیا جس پر کلبھوشن نے گورو آہلو والیا کو کھری کھری سنا دیں۔کلبھوشن نے کہا کہ نیوی کے سینئر کمیشن آفیسر کو پاگل،دماغی غیر حاضر کیسے کہہ سکتے ہیں۔کلبھوشن نے کہا کہ میں بالکل ہشاش بشاش،تندرست اور دماغی طور پر مکمل حاضر ہوں کلبھوشن نے پاکستانی حکام سے سوال کیا کہ کیا میں پاکستان میں بہت مشہور ہوں۔واضح رہے کہ کلبھوشن کا کیس ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔ملٹری کورٹس نے تو سزادے دی تھی لیکن بھارت عالمی عدالت چلا گیااور وہاں سے پاکستان کی سول عدالتوں میں کیس آ گیا۔مگر بھارت نہ تو پہلے سازشیں اور جاسوسی کرنے سے باز آیا تھااور نہ ہی اب آ رہا ہے۔اس وقت درجن بھر سے زائد بھارتی جاسوس پاکستانی جیلوں میں اپنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں جنہیں جیلوں سے نکالنے کے لیے بھارت سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔ اس وقت کرمنل موسٹ وانٹڈ کی طرح کلبھوشن کو پاکستان سے لے جانا بھارت کی سب سے پہلی خواہش ہے مگر اس کے علاوہ کچھ اور جاسوس بھی ایسے ہیں جنہیں واپس لے جانے کے لیے بھارت دن رات محنت کر رہا ہے۔فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے بھارتی جاسوسوں کی رہائی کیلئے بھارتی ہائی کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے، جس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کریں گے۔