میں نے آپ کو مینٹل نہیں کہا،وکیل نوازشریف کا واجد ضیاء سے مکالمہ

میں نے آپ کو مینٹل نہیں کہا،وکیل نوازشریف کا واجد ضیاء سے مکالمہ

نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز فیملی کے وکیل خواجہ حارث اور واجد ضیاء کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ہم جو کر رہے ہیں یہ کافی مینٹل کام ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر بولے کہ آپ مینٹل ہو گئے ہیں، آپ کی عمر کا تقاضا ہے۔

خواجہ حارث نے ان سے کہا کہ میں نے آپ کو مینٹل نہیں کہا۔ واجد ضیاءنے ان سے کہا کہ آپ مجھے ہدایات نہ دیں۔

نوازشریف فیملی کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ہوئی۔

دوران سماعت نواز شریف فیملی کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیاء پر جرح کی، کیس کے گواہ واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ جیری فری مین کو جے آئی ٹی نےمتفقہ رائے سے سوالنامہ بھیجا۔

 

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے سوالنامہ بھیجنے کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا تھا؟واجد ضیاء نے جواب دیا کہ جیری فری مین کو سوالنامہ بھیجنے پر جے آئی ٹی میں اتفاق رائے تھا ، جیری فری مین سے خط وکتابت جے آئی ٹی نے براہ راست نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ خط و کتابت کے لیے برطانیہ میں سولیسیٹر کی خدمات حاصل کی گئیں، جے آئی ٹی نےفیصلہ کیا تھا کہ جیری فری مین سے براہِ راست خط و کتابت نہیں ہوگی۔ گواہ واجد ضیا ء نے مزید کہا کہ حسن نواز کے 2ٹرسٹ ڈیڈ پر 2جنوری 2006ء کو دستخط کی جیری فری مین نے تصدیق کی، جیری فری مین اس ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کے گواہ ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹرسٹ ڈیڈ نیلسن اور نیسکول سے متعلق تھی، ان دونوں ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپیاں جیری فری مین کے آفس میں ہیں۔

خواجہ حارث نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے جیری فری مین کودستاویزات اور ثبوتوں کے ساتھ پاکستان آ کر اپنا بیان دینے کا لکھا تھا؟ جس پر واجد ضیا ء نے جواب دیا کہ جیری فری مین کو پاکستان آنے کے لیے نہیں کہا۔

خواجہ حارث نے مزید جرح کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے مطابق گلف اسٹیل مل دبئی میں کب قائم ہوئی؟واجد ضیا ء نے جواب دیا کہ ہماری تفتیش، دستاویزات اور کاغذات کی روشنی میں گلف اسٹیل مل 1978ء میں بنی۔

 

خواجہ حارث نے واجد ضیاء سے پوچھا کہ 1978ء کے شیئرز سیل کنٹریکٹ دیکھ لیں کیا آپ نے ان کی تصدیق کرائی؟ جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ گلف اسٹیل مل کے کنٹریکٹ کی تصدیق نہیں کرائی۔

نواز فیملی کے وکیل نے پوچھا کہ اگر آپ نے تصدیق نہیں کرائی تو کیا آپ اس کنٹریکٹ کے مندرجات کو درست تسلیم کرتے ہیں؟ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی نے گلف اسٹیل ملز کے کنٹریکٹ کو درست تسلیم کیا۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ 14 اپریل 1980ء کو حالی اسٹیل مل بنی کیا آپ نے اس کے مالک سے رابطہ کیا؟ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ گلف اسٹیل مل کے بعد آہلی اسٹیل ملز بنی لیکن ہم نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

خواجہ حارث نے مزید پوچھا کہ کیا آپ نے اسٹیل مل کے معاہدے کے گواہ عبدالوہاب سے رابطہ کیا؟واجد ضیاء نے جواب دیا کہ نہیں ان سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا۔

خواجہ حارث کا پوچھنا تھا کہ جے آئی ٹی کے والیم میں کتنی ایسی دستاویزات ہیں جن پر سپریم کورٹ کی مہر ہے، واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کوئی ایسی دستاویزات نہیں جن پر سپریم کورٹ کی مہر ہو،کیا میں جے آئی ٹی کے والیم دیکھ سکتا ہوں؟

خواجہ حارث نے ان سے کہا کہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ زیادہ بول رہے ہیں آپ کو اتنا کہنے کی ضرورت نہیں تھی، جے آئی ٹی والیم 3 میں جو خط ہے، اس کے مطابق اسکریپ دبئی نہیں بلکہ شارجہ سے جدہ گیا۔جس پر واجد ضیاء بولے کہ یہ بات درست ہے کہ اسکریپ شارجہ سے جدہ گیا۔

نواز فیملی کے وکیل نے کہا کہ خط کے مطابق وہ اسکریپ نہیں بلکہ استعمال شدہ مشینری تھی۔ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ یہ درست ہے کہ اسکریپ نہیں بلکہ وہ استعمال شدہ مشینری تھی۔

خواجہ حارث نے ان سے سوال پوچھا کہ جے آئی ٹی نے دبئی اتھارٹی کو ایم ایل اے بھیجا کہ اسکریپ بھیجنے کا کوئی ریکارڈ موجود ہے؟جس پر واجد ضیاء نے بتایا کہ ایسا کوئی ایم ایل اے نہیں بھیجا گیا۔

سماعت کے دوان ایک موقع پر واجد ضیا نے کہا کہ وہ کچھ اور باتیں شامل کرنا چا ہتے ہیں،جس پر جج محمد بشیر نےریمارکس دیے کہ اب آپ اور نہ بولیں۔

سماعت کےدوران نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل اور خواجہ حارث میں سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ہم جو کر رہے ہیں یہ کافی مینٹل کام ہے۔

جس پر نیب پراسیکیوٹر بولے کہ آپ مینٹل ہو گئے ہیں، آپ کی عمر کا تقاضا ہے۔

خواجہ حارث نے ان سے کہا کہ میں نے آپ کو مینٹل نہیں کہا۔

واجد ضیاءنے ان سے کہا کہ آپ مجھے ہدایات نہ دیں۔

خواجہ حارث نے پوچھا کہ پہلے آپ یہ بتائیں کہ میں نے آپ کو کیا ہدایات دیں، تب ہی آگے چلیں گے، کیا آپ کی اور میری کوئی لڑائی ہے؟

جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ نہیں، ہم آپ کو جانتے ہیں آپ کافی پروفیشنل ہیں۔

جرح کے بعد نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس پرسماعت پیرتک ملتوی کردی گئی ہے ۔