پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود سندھ طاس کمیشن کا دوروزہ اجلاس ختم

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود سندھ طاس کمیشن کا دوروزہ اجلاس ختم

 پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود پرمننٹ انڈس کمیشن (پی آئی سی) کا دو روزہ اجلاس کا ختم ہوگیا۔1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے آبی معاہدے کے بعد یہ پی آئی سی کا 114 واں اجلاس تھا، جہاں پانی کی تقسیم پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے 6 رکنی وفد کی سربراہی سید محمد مہر علی شاہ نے کی جبکہ بھارتی وفد میں انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا، بھارت کے خارجی امور کے نمائندے اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔یہ ملاقاتیںدونوں ممالک کے درمیان سفارتکاروں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دیگر اہم مسائل کے پس منظر میں ہوئیں۔خیال رہے کہ پی آئی سی انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدے) کے نظام کے تحت قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عملدرآمد اور پاکستان اور بھارت کے درمیان انڈس واٹر سسٹم کی ترقی کے لیے تعاون کو بڑھانا ہے۔اجلاس کے حوالے سے بھارتی اخبار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے دریائے چناب پر بھارت کے ریٹلے 850میگاواٹ( پاکل دل 1000 میگاواٹ) اور لوئر کالنئی 48میگا واٹ منصوبوں کے ڈیزائن پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ انڈس واٹر ٹریٹی کے خلاف ہیں۔ تاہم بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ تمام منصوبوں کے ڈیزائن انڈس واٹر ٹریٹی کے عین مطابق ہیں۔اجلاس کے دوران اسلام آباد کی طرف سے دریائے جہلم پر کشن گنگا اور ولر بیراج پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا، ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے سیلابی صورتحال اور انتظامی معاملات کا حوالے سے معلومات کا تبادلہ خیال کیا۔خیال رہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت 6 دریاؤں کو پانی کی تقسیم اور اشتراک کے حقوق حاصل ہیں، جن میں بیاس، راوی، ستلج، دریائے سندھ، چناب اور جہلم شامل ہیں۔انڈس واٹر ٹریٹی کے مطابق مغربی دریاؤں میں دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے لیے مخصوص ہیں جبکہ مشرقی دریا راوی، ستلج اور بیاس بھارت کے لیے مخصوص ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کے ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراض اور دیگر معاملہ زیر غورلائے گئے۔