شرجیل میمن کی میڈیکل رپورٹس میں تضادات

شرجیل میمن کی میڈیکل رپورٹس میں تضادات

سپریم کورٹ نے سندھ کے سابق وزیر اطلاعات اور پیپلز پارٹی رہنما شرجیل میمن کی میڈیکل رپورٹس سے متعلق معاملہ سندھ ہائیکورٹ کو ارسال کرتے ہوئے ازخود نوٹس کیس نمٹادیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں خصوصی بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شرجیل میمن کی جیل سے اسپتال منتقلی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران نئے میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ پیش کی اور عدالت کو آگاہ کیا کہ شرجیل میمن کی میڈیکل رپورٹس میں تضادات ہیں۔میڈیکل بورڈ نے موقف اختیار کیا کہ جب تک خود معائنہ نہ کریں کوئی رائے قائم نہیں کرسکتے۔جس پر عدالت نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ ریکارڈ میں شامل کرلی۔سماعت کے بعد عدالت نے شرجیل میمن کی جیل سے اسپتال منتقلی سے متعلق ازخود نوٹس کیس نمٹاتے ہوئے یہ معاملہ سندھ ہائیکورٹ کو ارسال کردیا اور حکم جاری کیا کہ شرجیل میمن کی بیماری اور میڈیکل رپورٹس کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ کرے۔واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب)نے گذشتہ برس 23 اکتوبر کو شرجیل میمن کو 5 ارب سے زائد کرپشن کے کیس میں سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر گرفتار کیا تھا۔تاہم بعدازاں شرجیل میمن کی جیل سے اسپتال منتقلی پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے لیا تھا۔مذکورہ کیس کی 17 مارچ کو ہونے والی گذشتہ سماعت پر چیف جسٹس نے شرجیل میمن کی بیماری سے متعلق رپورٹ مسترد کرکے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔