جڑانوالہ میں 6 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

جڑانوالہ میں 6 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں ایک 6 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے واقعے کے خلاف شہریوں نے احتجاج کرکے کاروباری مراکز بند کرا دیئے۔پولیس کے مطابق گذشتہ روز جڑانوالہ میں تھانہ سٹی کی حدود میں کھیتوں سے ایک 6 سالہ بچی کی لاش ملی تھی۔بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔بچی سے زیادتی اور قتل کا مقدمہ تھانہ سٹی جڑانوالہ میں بچی کے والد کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر گلا دبا کر قتل کیا۔بعدازاں بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئی ۔ورثا نے بچی کی نمازہ جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں سپرد خاک کردیا ۔بچی سے زیادتی اور قتل کے واقعے کے خلاف جڑانوالہ میں شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے زبردستی کاروباری علاقے بند کرا دیئے جبکہ روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کردیا۔ مظاہرین نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے بچی کے قاتل کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور انسپکٹر جنرل(آئی جی)پنجاب عارف نواز نے جڑانوالہ میں 6 سالہ بچی کی لاش ملنے کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او فیصل آباد سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔آئی جی عارف نواز کا کہنا تھا کہ بچی کے قاتل کو گرفتار کرکے قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔جڑانوالہ میں 6 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں برس جنوری میں پنجاب کے ضلع قصور میں بھی ایک 7 سالہ بچی زینب کی لاش کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی تھی، جسے اغوا اور زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔معصوم زینب کے قتل کے خلاف نہ صرف قصور بلکہ پورے ملک میں آواز بلند کی گئی، جو عدل کے ایوانوں میں بھی پہنچی اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس پر ازخود نوٹس لے کر پولیس کو زینب کے قاتل کی گرفتاری کی ڈیڈ لائن دی، جس کے نتیجے میں بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم عمران کی گرفتاری عمل میں آئی، جسے سزائے موت، عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی جاچکی ہے۔