جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں ،ڈرنے والا نہیں ،نواز شریف

جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں ،ڈرنے والا نہیں ،نواز شریف

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے گزشتہ روز کہا کہ انتخابات ملتوی ہونے کی گنجائش نہیں، ان کی بات اچھی لگی لیکن وہ اپنے ایکشن سے بھی ثابت کریں۔یوا ین پی کے مطابق جمعہ کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا اور سینیٹ انتخابات میں جو بندر بانٹ کی گئی سپریم کورٹ اس پر ازخود نوٹس لے۔نواز شریف نے کہا کہ اگر چیف جسٹس شفاف انتخابات کا کہتے ہیں تو وہ نہیں ہونا چاہیے جس کی نشاندہی کی ہے اور وہ اپنے ایکشن سے بھی ثابت کریں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم انتخابات کسی صورت ملتوی نہیں ہونے دیں گے، سول سوسائٹی، قانون دان اور عوام بھی انتخابات کا التوا نہیں ہونے دیں گے، مجھے جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں ڈرنے والا نہیں ، کال دینے کی نوبت آئی تو کال دونگا، جیل کے اندر ہوں یا باہر ہوں، جہاں سے بھی آواز دوں گا عوام نکلیں گے۔نواز شریف نے کہا کہ انتخابات میں سب کے لیے مساوی مواقع ہونے چاہییں، آپ کسی کے ہاتھ باندھ رہے ہیں اور کسی کو کھلا چھوڑ رہے ہیں، عمران خان نے اپنا جرم تسلیم کیا لیکن اسے چھوڑ دیا گیا اور مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نکال دیا گیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان کے خلاف احتساب عدالت میں زیرسماعت مقدمے کا اوپن ٹرائل ہونا چاہیے تاکہ عوام کو بھی پتہ چلے کہ مقدمے میں کیا ہے اور ہوکیا رہا ہے، حقائق قوم کے سامنے آنے چاہیے، یہ جھوٹا کیس ہے جس میں سب کچھ ہے اگر نہیں ہے تو کرپشن نہیں ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ نیب قانون کو کالا قانون سمجھتا ہوں جسے ایک ڈکٹیٹر نے مجھے سزا دینے کے لیے بنایا تھا، مجھ پر کیس چل رہا ہے اس لئے اس قانون کو ختم کرنے کے حق میں نہیں لیکن جب حکومت میں آئیں گے تو اس قانون کو اللہ کے حکم سے ختم کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیب قانون کو نگران حکومت کے دوران غیر موثر کردیا جائے، اس قانون کا ناجائز طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے اور جو بھی طاقتیں ہیں وہ انتخابات میں اس کا ناجائز استعمال کریں گی۔آصف زرادی کے چیلنج سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ زرداری صاحب چیف منسٹری چھیننے سے پہلے حلقوں سے ووٹ تو لے لیں، پنجاب کے حلقوں میں زرداری صاحب کے پاس چار پانچ سو ووٹ نکلتے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ حلقہ این اے 120 میں ہمارے لوگوں کو اٹھایا، ورکرز نے آکر خود بتایا کہ رات کے اندھیرے میں انہیں اٹھایا گیا اور انہیں چھوڑا بھی رات کے اندھِرے میں گیا۔نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم سے کہا تھا کہ اٹھائے جانے والے کارکنوں کے معاملے کی انکوائری کریں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ حلقہ این اے 120 میں ہمارے لوگوں کو اٹھایا، ورکرز نے آکر خود بتایا کہ رات کے اندھیرے میں انہیں اٹھایا گیا اور انہیں چھوڑا بھی رات کے اندھِرے میں گیا۔نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم سے کہا تھا کہ اٹھائے جانے والے کارکنوں کے معاملے کی انکوائری کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نے کوئی کرپشن کی ہوتی تو آج حاصل بزنجو اور محمود اچکزئی ابھی ہمارے ساتھ کھڑے نہ ہوتے۔نواز شریف نے  کہا کہ ہمارا سیاسی کیرئیرگواہ ہے کہ ہم اپنے موقف سے ہٹے ہیں نہ ہی ہم نے کوئی یو ٹرن لیا، ہم نظریاتی لوگ ہیں اور میرے دائیں بائیں بھی نظریاتی لوگ ہی بیٹھے ہیں۔ان  کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو بلوچستان اسمبلی، سینیٹ انتخابات کے واقعات کا ازخود نوٹس لینا چاہئے۔ عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں جو لوگ پیسے دے کر سینیٹر بنیں انہیں چھوڑ دیں، بلوچستان میں جوکچھ ہوا، کیا اس کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا، چیئرمین سینیٹ کیسے بنے، ووٹ بیچے اور خریدے گئے، چیف جسٹس کو  بلوچستان کی صورتحال پر سوموٹو نوٹس لینا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ میرے خلاف فیصلہ آنے کا بعد معیشت کمزور ہورہی اور مہنگائی بڑھ رہی جبکہ ترقی کی رفتار بھی کم ہورہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے فیصلے ٹھیک نہیں ہوتے۔اس موقع پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب ایک مہربانی کریں کہ تمام بار کے ارکان کو بلا لیں اور فوج، عدلیہ اور سیاست دانوں سے حلف لیں کہ ہم سب نے آئین کی حکمرانی لانی ہے کیونکہ ایسا کرنے سے جمہوریت کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا ہر ادارے کی ایک آئینی حدود ہے اور جو بھی اپنی آئینی حدود سے تجاوز کریں گے ہم اس کے خلاف کھڑیں ہوں گے۔غیر رسمی گفتگو کے دوران میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ یہاں آنے کا بنیادی مقصد نواز شریف سے یکجہتی تھا اور جو ذمہ داری سالوں سے ہماری کندھوں پر تھی وہ نواز شریف نے اب اپنے کندھوں پر لے لی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت، قانون کی بالادستی اور لوگوں کے بنیادی حقوق ہمیں نواز شریف سے جوڑتے ہیں۔