پابندی کے باوجود بھارت کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے پاور پروجیکٹ

پابندی کے باوجود بھارت کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے پاور پروجیکٹ

کشن گنگا بجلی پروجیکٹ کی تعمیر کے خلاف ایک مرتبہ بھر پاکستان نے عالمی بنک سے رجوع کیا ہے۔ پاکستان نے وولڈ بنک سے کہا کہ بنک کی پابندی کے باوجود بھی کشن گنگا پاور پروجیکٹ پر کام جاری ہے۔ پاکستان نے وولڈ بنک کو بتایا کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت اس کی ذمہ داروں کو تسلیم کرنا ہو گا ۔وولڈ بنک ہند پاک کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ پاکستان نے کشن گنگا اور رٹلے (Ratle)پروجیکٹ، جو ریاست جموں وکشمیر میں تعمیر ہو رہے ہیں، کے متعلق وولڈ بنک کو آگاہ کیا کیونکہ پاکستان کو جموں وکشمیر میں تعمیر ہو رہے پانچ بجلی پروجیکٹوں  1000میگاواٹ پکل ڈل ،850میگاواٹ رٹلے 330میگاواٹ کشن گنگا ، 120میگاواٹ مییار (Miyar)اور 48میگاواٹ لوہر کلنائی کے ڈیزان اور تعمیر پر سخت اعتراضات ہیں اور پاکستان نے کہا ہے کہ ان پروجیکٹوں کی تعمیر سندھطاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔پاکستان کی وزات توانائی نے اپنی تازہ یاداشت میں اس ہفتے عالمی بنک کے نائب صدر پر زور دیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ بھارت 1960کے سندھ طاس معاہدے پر پروجیکٹوں کی تعمیر کے دوران کار بند رہے ۔ وولڈ بنک کے عہدیدارنے بتایا کہ پاکستان نے جو خط ورلڈ بنک کو لکھا ہے وہ واشنگٹن میں بنک کے صدر دفتر تک پہنچ گیا ہے اور وہاں سے وولڈ بنک کے نائب صدر تک بھی پہنچا دیا گیا ہے۔پاکستانی ترجمان کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت نے کشن گنگا بجلی پروجیکٹ کی تعمیر اس وقت مکمل کی ،جب وولڈ بنک نے کام کو روکنے کا حکم پاکستان کی درخواست پر سال2016میں جاری کیا تھا ۔پاکستان کی درخواست کا جواب بھارت نے ایک غیر جانبدارانہ ماہر کی خدمات حاصل کرنے کی درخواست دے کر کیا تھا تاہم اس کے باوجود بھی اس پروجیکٹ پر کام جاری ہے ۔پاکستان نے وولڈ بنک سے دریائے نیلم پر تعمیر ہو رہے کشن گنگا اور وادی چناب میں تعمیر ہو رہے رٹلے  پروجیکٹ کے مسئلہ کو حل کرنے کی درخواست کی تھی ۔پاکستان عہدیدار نے کہا کہ وہ اس معاملے پر خاموش تماشاہی بن کر نہیں بیٹھیں گے بلکہ معاملے کو ہر ممکن صورت میں پائے تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں گے ۔