نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں متعدد ریفرنسز دائر کرنے کا فیصلہ

نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں متعدد ریفرنسز دائر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب )کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوا جس میں مندرجہ ذیل فیصلے کئے گئے ۔ تفصیلات کے مطابق نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی سابق سیکرٹری/چیئرمین ریلوے و سابق وفاقی وزیر برائے مواصلات و ریلوے‘ لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعید الظفر ‘ سابق سیکرٹری ریلوے / چیئرمین ریلوے ‘ میجر جنرل ریٹائرڈ حامد حسن بٹ‘ سابق جنرل منیجر ایم اینڈ ایس پاکستان ریلوے‘ اقبال صمد خان سابق جنرل منیجر آپریشن پاکستان ریلوے ‘ خورشید احمد خان سابق ممبر فنانس پاکستان ریلوے‘ بریگیڈیئر (ر) اختر علی بیگ سابق ڈائریکٹر ‘ عبدالغفار سابق سپرنٹنڈنٹ ‘ محمد رمضان شیخ‘ ڈائریکٹر میسرز حسنین کنشٹرکشن کمپنی‘ پرویز لطیف قریشی چیف ایگزیکٹو یونیکون کنسلٹنگ سروسز‘ داتو محمد کا سابن ادا عزیز ڈائریکٹر میکس کارپ‘ ڈویلپمنٹ ملائیشیاء اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو تقریباً دو ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔ نیب کے ایگیزکٹو بورڈ نے طارق حمدی سابق چیئرمین واپڈآ‘ محمد انوار خالد سابق ممبر پاور واپڈآ‘ محمد مشتاق سابق ممبر واٹر واپڈا‘ امتیاز انجم سابق ممبر فنانس واپڈا اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان پر مبینہ طور پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے میپرا اور پیپرا اور ای سی سی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 150 میگاواٹ کا رینٹل پاور پراجیکٹ میسرز جنرل الیکٹرک انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو ٹھیکہ دیا جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے وزیر مملکت ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ اور پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل کے صدر کی مبینہ طور پر ملی بھگت سے 12 میڈیکل کالجوں کے الحاق میں بدعنوانی کے الزام پر شکایت کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے کیپیٹل ڈویپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیئرمین فرخند اقبال ‘ سابق ممبر اسٹیٹ خالد محمود مرزا‘ سابق ممبر فنانس سی ڈی اے جاوید جہانگیر اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی۔ ان پر مبینہ طور پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تجارتی پلاٹوں کو کوڑیوں کے بھاؤ مبینہ طور پر فروخت کیا۔ جس سے قومی خزانے کو تقریباً 494.333 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سرکاری فنڈز میں خورد برد اور سندھ سمال انڈسٹری کارپوریسن میں غیر قانونی تقرریاں کرنے اور غیر قانوی طور پر سرکاری پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے الزام میں سابق صوبائی وزیر سندھ عبدالرؤف صدیقی ‘ محمد عادل صدیقی‘ ڈاکٹر ثروت فہیم ‘ مشتاق علی لغاری‘ محمود احمد ‘ غلام نبی مہر‘ عبدالحئی دھامرہ ‘ سید امداد علی شاہ‘ سید امید علی شاہ اور دیگر کے خلآف دو الگ الگ انوسٹی گیشنز کی منظوری دی۔ ملزمان نے مبینہ طور پر اپن اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو تقریباً 435.4 ملین روپے کا نقصان پہنچایا۔ اجلاس میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر صاحبزادہ سعید احمد‘ سید ظاہر شاہ سابق ڈائریکٹر جنرل سریر محمد ڈارئریکٹر جنرل ‘ محمد طارق سابق جنرل منیجر عبدالحلیم پراچہ سابق ڈائریکٹر اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ملزمان پر اپنے اختیارات کا ناجائز اقستعمال کرتے ہوئے پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں پلاٹ مالکان کو رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پلاٹ سے ملحقہ زائد زمین دینے کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو تقریباً 5.27 ملینر وپے کا نقصان پہنچایا۔ اجلاس میں طماش خان سابق ناظم/ایم پی اے پشاور کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کای گیا‘ ان پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ ایگزیکٹو بورد نے پاسکو کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف انکوائری متعلقہ محکمہ کو قانون کے مطابق کارروائی کیلئے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اجلا س میں رحمت بلوچ وزیر صحت بلوچستان اور دیگر کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا گیا‘ ان پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ نے عدم ثبوت کی بناء پر ڈاکٹر محدم اسحاق فانی سابق ڈائریکٹر پروگرام فاصلاتی تعلیم بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے خلاف انکوائری اور فرنٹتیئر ورکس آرگنائزیشن اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے افسران کے خلاف انکوائری بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے ‘ نیب بلا امتیاز اور قانون کے مطابق انکوائریوں اور انوسٹی گیشن کو منطقی انجام تک پہنچائے گا اور اس سلسلے میں کوئی دباؤ سفارش کو خاطر میں نہیں لائے گا۔