بلوچستان کا ستک گین در ’نمرود کا ٹھکانہ

بلوچستان کا ستک گین در ’نمرود کا ٹھکانہ

گوادر سے 150کلومیٹر دور ایک جلا ہوا دروازہ موجود ہے جسے سُتک گین در کہتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ دروازے کا لفظ علامتی طور پر راہداری کےلئے استعمال کیا گیا ہے جو 3500قبل مسیح میں مکران سے میسوپوٹیمیا تک جاتی تھی۔سُتک گین در کے قریب رہنے والے داد رحیم یہاں 50سال سے مقیم ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا پردادا اس جگہ کو نمروُد کا ٹھکانہ کہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس جگہ کے مالک وہ خود ہیں اور اس کی رکھوالی بھی وہ خود ہی کرتے ہیں لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ ان کو وقت کے ساتھ ہوا،5ہزار لوگوں کی آبادی پر مشتمل یہ علاقہ میرانی بازار کے نام سے مشہور ہے جو یونین کونسل سنتسر، تحصیل جیونی اور ضلع گوادر میں پڑتا ہے۔

سال 2004سے شروع ہونے والی ریاست اور سرمچاروں کے درمیان جنگ کی وجہ سے بہت سے لوگ یہاں سے باقی علاقوں کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس جگہ کے بارے میں اس وقت یہ تاثر بنا کہ یہاں پر بھوت پریت ہیں اس لیے یہاں کوئی بھی زیادہ عرصے نہیں رہ پاتا۔

داد رحیم بتاتے ہیں کہ مختلف ادوار میں انگریز اور فرینچ مشن کی اس جگہ آمد اور کھدائی کے عمل سے علاقے کے لوگوں کو شبہ ہوا کہ شاید یہاں سونا ہے لیکن وہ سونا ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔’مجھے کئی بار کہا گیا کہ ہمارے ساتھ آؤ اور سونا تلاش کرنے میں مدد کرو لیکن میں فساد پیدا کرنے کے ڈر سے پیچھے ہٹ گیا اور شامل نہیں ہوا۔

3 سال پہلے لوگ کسی مولوی کے ہمراہ رات میں یہاں آئے، مولوی ازخود کچھ بڑبڑانے لگ گیا جس کی وجہ سے سب ڈر کر بھاگ گئے، اس کے بعد سے یہاں کوئی نہیں آیا ۔بھوت پریت کی کہانیوں کے برعکس، محقق اور لسبیلہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حمید بلوچ بتاتے ہیں کہ سُتک گین در کے لوگ دراصل آباد کار تھے جن کا کام صنعتی راہداری کی حفاظت کرنا تھا،اس جگہ پر 3ادوار میں تحقیق کی گئی ہے۔1875میں میجر موکلر نے مکران میں اپنی ایک مہم کے دوران سُتک گین در دریافت کیا۔

انہوں نے یہاں کے گھروں اور قلعوں کے بارے میں لکھا کہ یہ بالکل وادی سندھ کی تہذیب کے زمانے میں بنے گھروں کے طرز پر بنے ہیں۔1930میں سر اورل اسٹین نے مکران کا دورہ کیا لیکن ڈاکٹر حمید بلوچ کہتے ہیں کہ اورل کا طریقۂ کار غیر سائنسی تھا کیونکہ وہ صرف سالم حالت میں موجود چیزیں نکالتے اور آگے بڑھ جاتے جس وجہ سے یہاں پر موجود بہت سے آثار ضائع ہو گئے تھے۔

1950میں امریکن آرکیالوجسٹ جارج اے ڈیلس اور ڈاکٹر رفیق مغل یہاں آئے، یہ اس دور کا سب سے تفصیلی جائزہ تھا جس کا تذکرہ ڈیلس نے اپنی کتاب ’’ اےسرچ آف پیراڈائز‘‘ میں کیا۔ڈاکٹر حمید نے کہا کہ ’ان کو کہا گیا تھا کہ اگر آپ کو جنت دیکھنی ہے تو آپ مشرق کی طرف سفرکریں، ان کو جنت تو نہیں ملی لیکن سُتک گین در کے قریب موجود میسوپٹیمین زمانے میں بنی ہوئی قلعے کی دیوار ضرور مل گئی۔‘

پھر 1987سے لے کر 2001تک فرینچ اور اطالوی مشن نے مکران کا ایک طویل اور تفصیلی جائزہ لیا، ان کو وہاں مچھلی کی ہڈیاں ملیں جس سے انہوںنے یہ اخذ کیا کہ جن لوگوں کو یونانی’’فش ایٹرز‘‘ (مچھلی خور) کہتے تھے وہ 4 ہزار سال سے یہاں رہائش پذیر ہیںتاہم جو سائنسی شواہد ملے ہیں وہ ساڑھے چار ہزار قبل کے ہیں۔

آج یہ جگہ اسی طرح موجود ہے لیکن یہاں سے بہت سا سامان اور آثار چوری ہو چکے ہیں۔ڈاکٹر حمید کہتے ہیں پاکستان میں آرکیالوجی کو وہ اہمیت حاصل نہیں جس کی وہ مستحق ہے۔