مشرف کی سزا کا فیصلہ غیر قانونی قرا

مشرف کی سزا کا فیصلہ غیر قانونی قرا

لاہورہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کو غیر قانونی قرار دیدیا ہے۔

لاہورہائی کورٹ کے فل نیچ نے کہا ہے کہ فیصلے کا انتظار کیا جائے ۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا ٹرائل کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس کی سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کی۔

کیس کی گزشتہ سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے سابق صدر کے خلاف فردِ جرم پڑھ کر سنائی تھی اور کہا تھا کہ فردِ جرم میں لکھا گیا ہے کہ ایمرجنسی لگا کر آئین توڑا گیا ہے۔

خصوصی عدالت کیخلاف مشرف کی درخواست کی سماعت

 

پرویز مشرف کی جانب سے 85 صفحات پر مشتمل دائر درخواست میں عدالتی فیصلے کے پیرا گراف 66 پر بھی اعتراض اٹھایا گیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ خصوصی عدالت نے عجلت میں فیصلہ سنایا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابق صدر کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، جبکہ خصوصی عدالت کے رکن جسٹس نذر اکبر نے اختلافی فیصلے میں لکھا کہ 2007ء میں آئین کی معطلی غداری کے زمرے میں نہیں آتی تھی۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد روکا جائے۔

خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف گزشتہ ماہ 17 دسمبر کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔