کورونا وائرس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا 408 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم

کورونا وائرس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا 408 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے پیش نظر 408قیدیوں کی ضمانت پر مشروط رہائی کا حکم دے دیا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظرقیدیوں کی ضمانت پر رہائی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے ملزمان عدم تشدد کے جرائم میں قید ہیں جس پر اے این ایف کے پراسیکیوٹر وسیم قریشی نے عدالت کو بتایا کہ نارکوٹکس بھی انتہائی سنگین جرم ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ علاقہ غیر سے ہیں اور کچھ پرانے سزا یافتہ بھی ہیں‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ ایمرجنسی صورتحال ہے اور ہم صرف ملزمان کے حوالہ سے فیصلہ کر رہے ہیں جو سزا کے بغیر قید ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم تفتیشی افسر کے مطمئن ہونے پر ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیتے ہیں اور ایک کمیٹی قائم کر دیتے ہیں جو حکومتی پالیسی کو سامنے رکھ کر ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ کرے‘۔

عدالت میں 283 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت کا کہنا تھا کہ ’ 17 ملزمان کے ضمانتی مچلکے داخل ہونے پر انہیں بھی رہا کر دیا جائے گا‘

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ چیف کمشنر، آئی جی پولیس اور ڈی جی اے این ایف مجاز افسر مقرر کریں اور تمام مجاز افسران پر مشتمل کمیٹی کے مطمئن ہونے پر قیدیوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

انہوں نے ہدایت دی کہ جس ملزم کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ باہر نک