تسلیم کرتا ہوں زرداری کیخلاف میمو گیٹ کیس میں مجھے نہیں پڑنا چاہیے تھا،نواز شریف

تسلیم کرتا ہوں زرداری کیخلاف میمو گیٹ کیس میں مجھے نہیں پڑنا چاہیے تھا،نواز شریف

سابق وزیر اعظم اور ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف  نے کہا ہے کہ میں اس چیز کوتسلیم کرتا ہوں زرداری کیخلاف میمو گیٹ کیس میں مجھے نہیں پڑنا چاہیے تھا،چیف جسٹس کے انٹرویو اور ڈاکٹرائن سے متعلق تبصرے دیکھ رہا ہوں،انھیں الیکشن میں ایک گھنٹے کی تاخیر کی بات نہیں کرنی چاہیے وہ سمجھتے ہیں کوئی چیز پرابلم کر رہی ہے تو اس کا سدباب ہونا چاہیے،آج فیصلے میرے نہیں ان کے ہاتھ میں  ہیں ،ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں ،کسی کو رخنہ نہیں ڈالنا چاہیے،ووٹ امپائر کی انگلی سے نہیں  لوگوں کے انگوٹھوں سے ملیں گے،سب جانتے ہیں میں سگنل لینے والا بندہ نہیں ہوں ،پرویز مشرف  واپسی کے حوالے سے جھوٹ بول رہے ہیں ،وہ مکا دکھا کر کہتے تھے نواز  اور بے نظیر واپس نہیں آئیں گے،میں بیٹی کے ساتھ عدالت میں کھڑا اور الزامات کے جواب دے رہا ہوں،لوگوں کو سیاستاندانوں  اور مشرف جیسے لوگوں میں فرق سمجھنا چاہیے ،مشرف نے2002میں نیب خاص نتائج کے لئے بنایا تھا خدشہ ہے اب بھی اسے ہمارے خلاف استعمال کیا جائے گا،مارشل دور کے قوانین کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے احتساب عدالت میں پیشی  کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو اور پنجاب ہاؤس میں مشاورتی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا ۔یو این پی کے مطابق منگل کو احتساب عدالت  میں پیشی کے موقع پر  عدالت کے کمرے میں میڈیا نمائندوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ موجودہ اسمبلی کی مدت میں 2 ماہ رہ گئے ہیں اور چیف جسٹس کے انٹرویو اور ڈاکٹرائن سے متعلق تبصرے دیکھ رہا ہوں۔نواز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس کو انتخابات میں ایک گھنٹے کی تاخیر کی بھی بات نہیں کرنی چاہیے، اگر ان کے خیال میں کوئی چیز مسائل پیدا کر رہی ہے تو اس کا سدباب ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ توقع کرنی چاہئے کہ کوئی انتخابی عمل میں رخنہ نہ ڈالے، ووٹ امپائر کی انگلی سے نہیں لوگوں کے انگھوٹھوں سے ملیں گے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت کے لیے قیمت ادا کی اور ادا کر بھی رہا ہوں، سب جانتے ہیں میں سگنل لینے والا بندہ نہیں، میرے خلاف یلغار کی بڑی وجہ آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تاہم اس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔نواز شریف نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جب آصف زرداری پر میمو کیس بنایا گیا تو مجھے اس سے دور رہنا چاہیے تھا اور میرا میمو کیس سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے تھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ کیس بنانے میں کون سی دیر لگتی ہے؟ جواز ہو یا نہیں، کیس بن جاتے ہیں اور میرے کیس میں پراسیکیوشن اور گواہوں سمیت کسی کو معلوم نہیں کہ کرپشن کب ہوئی۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ مخصوص نتائج حاصل کرنے کے لیے پرویز مشرف نے نیب بنایا جسے 2002 کے انتخابات سے قبل بری طرح استعمال کیا گیا اور خدشہ ہے کہ نیب کو اسی طرح اب پھر ہمارے خلاف استعمال کیا جائے گا، اس بات کا احساس آج تجربات کے بعد ہو رہا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مارشل لا ادوار کے قوانین ایک ہی بار اور فوری  ختم کر دینے چاہئیں، نیب سے بہتر قانون لایا جا سکتا ہے۔۔ انہوں نے کہا 70 سال ہوگئے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے، اب لوگوں کا خوف اور ڈر ختم ہوگیا، نیب کے بنائے قوانین کو ملیا میٹ کر دینا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ  ہماری ایک آئیڈیالوجی اور سوچ ہے جس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ واجد ضیا گھنٹوں پرویز مشرف کے دروازے کے باہر بیٹھے رہتے تھے، کمرہ عدالت میں موجود واجد ضیا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ 'ان سے پوچھیں میں نے کیا کرپشن کی ہے'؟۔صحافی کے سوال 'کیا پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کے لئے راحیل شریف نے آپ سے کہا تھا' پر نواز شریف نے کہا کہ فی الحال ان باتوں کا وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سیاستدانوں اور پرویز مشرف جیسے لوگوں میں فرق سمجھنا چاہیے، پرویز مشرف بیماری کا بہانہ کرکے اسپتال میں چھپ گیا اور میں اپنی بیٹی کے ساتھ عدالت میں موجود ہوں اور الزامات کا سامنا کر رہا ہوں۔نواز شریف نے مزید کہا کہ پرویز مشرف مکے دکھا کر کہتا تھا کہ نواز شریف اور بے نظیر کبھی واپس نہیں آئیں گے اور آج وہ وطن واپسی سے متعلق جھوٹ بولتا ہے۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا چوہدری نثار کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے جس پر نواز شریف نے کہا کہ ' آپ مشرق کی بات کرتے ہوئے مغرب نکل جاتے ہیں'۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نگران حکومت کے بارے میں شاہد خاقان سے ایک دو بار بات ہوئی ہے ۔سیاستدانوں کو مل کر اس کا فیصلہ کرنا چاہیے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان نے علی جہانگیر صدیقی کو امریکا کے لیے سفیر نامزد کیا ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں ڈالنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ سوال اٹھتا ہے یہ سب کون کر رہا ہے، میرے خلاف یلغار ہوئی ہے لیکن آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہوں۔میں پیچھے نہیں ہٹوں گا، میں امپائر کی انگلی کی طرف نہیں دیکھوں گا، ووٹ امپائر کی انگلی سے نہیں عوام کی انگلی سے ملتے ہیں، سارے ساتھی ساتھ کھڑے ہیں ،لوگ اور پارلیمنٹیرینز باشعور ہو چکے، اب ان ہتھکنڈوں کا مستقبل نہیں، الیکشن میں ایک گھنٹہ کی تاخیر بھی نہیں ہونی چاہیے۔نواز شریف نے مزید کہا کہ میرے کیس میں پراسیکیوشن اور گواہوں سمیت کسی کو معلوم نہیں کہ کرپشن کب ہوئی؟ میرے اثاثوں پر سرکاری پیسہ کہاں لگا؟، کرپشن کی ہے توبتائیں کہاں کی ہے، احتساب کرنے والوں کو چیلنج کرتا ہوں کوئی ایسا کیس نکالیں جو عوام بھی تسلیم کریں۔ بعد میں  پنجاب ہاؤس میں  نواز شریف کی سربراہی میں  اتحادیوں کا  الیکشن کے حوالے سے مشاورتی اجلاس بھی جس میں محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنماؤں  نے شرکت۔اس موقع پر اپنے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ ہم 70سال گنوا بیٹھے  ہیں ۔اب یہ سب بدلنا ہوگا۔انھوں نے محمود خان اچکزئی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ آپ مجھے اس لئے بھی پسند  ہیں کہ آپ نے جب بھی بات کی ووٹ کے تقدس کی بات کی۔انھوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ کے اندر بات کی ہو یا باہر ،وہ اسمبلی میں بولے ہوں یا فیلڈ میں ،پنجاب میں تقریرکی ہویا یا بلوچستان میں ،سندھ میں یا کے پی کے  میں  ہمیشہ  آئین  اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں  اور غیر جموہری رسم و رواج کے خاتمے کی بات کرتے ہیں ۔ ان کی بات بہادرانہ ہوتی جس میں وہ عوام کے ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے ہیں ۔ان کے دلیرانہ بیانات ہمارے لئے مشعل راہ پہونے چاہیئں ۔یہ کہتے ہیں تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں ۔انھوں نے کہا کہ شاید پہلے میں نظریاتی نہیں تھا اب سو فیصد نظریاتی ہوں ووٹ کے تحفظ کیلئے سب مسلم لیگیوں کو نظریاتی ہونا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ 70سال میں ووٹ کو عزت دی ہوتی تو آج پاکستان بھی دنیا کے 10ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو تا۔