گیم پب جی پر پابندی کے خلاف درخواست مسترد 

 گیم پب جی پر پابندی کے خلاف درخواست مسترد 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے گیم 'پب جی' پر پابندی کے خلاف درخواست مسترد کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق درخواست گزار نے 4 جولائی کو پی ٹی اے کے فیصلے کے بعد درخواست دی تھی جس پر جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بیجچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے درخواست کو مستر کر دیا ہے۔ اس موقع پر پی ٹی اے کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ تمام قوانین کے مطابق اور درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد فیصلہ کریں گے۔درخواست جمع کرواتے ہوئے درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پب جی کا ٹورنامنٹ جیتا، اب 10 جولائی کو پب جی ورلڈ لیگ میں شامل ہونا تھا، الیکٹرانک اسپورٹس دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے، اسے بند نہ کیا جائے۔درخواست کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ آن لائن پیسے کمانے کا بہتری ذریعہ ہے۔ پب جی پر پابندی کی وجہ سے بڑی کمپنیوں کی سپانسرشپ معطل ہونے کا خطرہ ہے، سپانسر کم ہونے کی وجہ سے پاکستان کو بڑے پیمارے پر معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔درخواست گزار کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ اگر ذہنی پریشر کی وجہ سے گیم پر پابندی لگائی گئی ہے تو پڑھائی اور تعلیمی اداروں پر بھی پابندی لگا دینی چاہیئے۔ اس سے قبل وقار ذکا نے بھی گیم پر پابندی کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔ خیال رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات سامنے آنے پر 'پب جی' گیم پر پابندی عائد کردی تھی۔پی ٹی اے کی جناب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا ہے کہ پب جی گیم پر ملک میں پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ریس رلیز میں بتایا گیا تھا اس گیم کی وجہ سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گیم کی وجہ سے کئی نوجوا خودکشی بھی کر رہے جبکہ اس کی وجہ سے نوجوانوں کے وقت اور صحت کا ضیاع ہورہا ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اب اس حوالے سے والدین اور لوگوں کے تاثرات لیے جائیں گے کہ انکا اس حوالے سے کیا کہنا ہے۔