مہمان کھلاڑیوں کو بی گریڈ قرار دینا درست نہیں:نجم سیٹھی

مہمان کھلاڑیوں کو بی گریڈ قرار دینا درست نہیں:نجم سیٹھی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ کراچی آنے والی ویسٹ انڈین ٹیم میں اسٹار کرکٹرز شامل ہیں ،مہمان کھلاڑیوں کو بی گریڈ قرار دینا درست نہیں،یہ تاثر دینا بھی انصاف نہیں کہ کیریبین سائیڈ کے بڑے نام پاکستان نہیں آ ئے ، وہ تو ٹیم کی نمائندگی ویسے بھی نہیں کرتے ،صرف دو پلیئرز نے پاکستان آنے سے انکار کیا جن کی آئی پی ایل میں مصروفیت ہے ،دہشت گردوں کی جانب سے دھمکیاں آتی رہتی ہیں مگر یہ کوئی سنجیدہ نوعیت کا معاملہ نہیں ،کراچی میں لوگ بلاخوف و خطر گھوم رہے ہیں،قوم کی دعاؤں سے ملک میں کرکٹ واپس آ رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کا کراچی میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ کراچی آنے والی ویسٹ انڈین ٹیم کے معیار پر سوالات اٹھانا مناسب بات نہیں اور یہ تاثر بھی کسی طرح درست نہیں کہ تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کیلئے پاکستان آنے والی کیریبین ٹیم بی گریڈ کرکٹرز پر مشتمل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کے تمام تر دستیاب اسٹار کھلاڑی پاکستان آئے ہیں اور یہ کہنا انصاف نہیں کہ بیشتر بڑے کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا کیونکہ مہمان ٹیم کے صرف دو کھلاڑیوں نے پاکستان آنے سے انکار کیا جس کی وجہ محض یہ تھی کہ ان کی آئی پی ایل میں مصروفیات ہیں۔انہوں نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے بیشتر ہائی پروفائل پلیئرز ٹی ٹوئنٹی میچوں میں اپنی ٹیم کی نمائندگی نہیں کرتے کیونکہ ان کی توجہ کا مرکز انٹرنیشنل لیگز ہیں اور ان کی حالیہ دورے پر غیر حاضری کو اس طرح نہیں ابھارا جائے کہ انہوں نے پاکستان آنے سے گریز کیا ہے۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ کرس گیل سمیت کچھ کھلاڑیوں کی آئی پی ایل میں مصروفیات تھیں لہٰذا انہوں نے بھارت جانا مناسب سمجھا اس کے سوا اور کوئی بات نہیں ہے اور اس حوالے سے منفی پہلو نہ اٹھائے جائیں۔انہوں نے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کا کریڈٹ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ قوم کی دعاؤں سے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ واپس آرہی ہے اور جہاں تک دہشت گردوں کی جانب سے دھمکیوں کی بات ہے تو یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور اسے سنجیدہ نوعیت کا معاملہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں رنگ بکھر رہے ہیں اور لوگ بلا خوف و خطر ہر جگہ گھوم رہے ہیں اور پھر سب سے اہم بات یہ بھی کہ پاکستان سپر لیگ تھری فائنل کے بعد دنیا کراچی کو ایک مختلف نگاہ سے دیکھ رہی ہے جہاں لاہور کی طرح انٹرنیشنل میچوں کا انعقاد شروع ہو چکا ہے اور ان کی ذاتی خواہش بھی یہی ہے کہ پاکستان کے لوگ انٹرنیشنل کرکٹ دیکھتے رہیں۔واضح رہے کہ قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے دو پلے آف میچز کے دوران میڈیا کے بعض حلقوں نے اس قسم کی خبریں بھی جاری کیں کہ لاہور میں کاونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ نے دہشت گردی کے دو ممکنہ واقعات کا قلع قمع کردیا تھا اور اس حوالے سے کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں لیکن پی سی بی چیف کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اس طرح کی گرفتاریاں معمول کی بات ہیں جن کو غیر ضروری طور پر اچھالنے کی کوشش کی گئی۔نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ سیکیورٹی ایجنسیاں معمول کے مطابق اپنے فرائض کی ادائیگی کرتی رہتی ہیں لہٰذا مشکوک افراد کو پکڑنا ان کا کام ہے اور پاکستان سپر لیگ تھری کے پلے آف میچوں کے دوران لاہور میںجو چھاپے مارے گئے یا گرفتاریاں عمل میں آئیں وہ معمول کی بات تھیں۔