ترکی روسی میزائلوں کے معاملے پر امریکا کے سامنے ڈٹ گیا

ترکی روسی میزائلوں کے معاملے پر امریکا کے سامنے ڈٹ گیا

ترکی نے کہا ہے کہ روس سے ایس چار سو طرز کے میزائل دفاعی نظام کا سودا منسوخ نہیں کیا جائے گا اور اس ضمن میں امریکی پابندیوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا

ترک وزیر خارجہ مولوت چاوش اوگلو نے جمعرات کو کہا ہے کہ روس سے ایس چار سو میزائل دفاعی نظام خریدنے کا فیصلہ تبدیل نہیں ہو گا۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سودے پر احتجاجاً امریکا نے جو ترکی پر پابندیاں عائد کی ہیں، ان کے رد عمل میں جوابی اقدامات کیے جائیں گے۔

روس سے یہ میزائل دفاعی نظام حاصل کرنے کی وجہ سے امریکا نے پیر کو چند ترک اہلکاروں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

 ترک ڈیفنس انڈسٹری ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اسمائیل دیمیر سمیت 3مزید اہلکار ان پابندیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس پیش رفت کے رد عمل میں صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ امریکا کا یہ قدم ترکی کی دفاعی صنعت پر ایک جارحانہ حملہ ہے اور یہ ناکام ہو گا۔

مولوت چاوش اوگلو نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کے ترک صنعتوں پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد جوابی کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع کے اہلکاروں کے علاوہ وزارت خارجہ اور محکمہ انصاف کے سینیئر اہلکار بھی اس عمل میں شامل ہوں گے۔ 

ترک وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ان پابندیوں سے کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا۔روس سے اس میزائل دفاعی نظام کی خریداری کا فیصلہ ضرورت کے تحت کیا کیونکہ اسے نیٹو کے کسی اتحادی ملک سے اطمینان بخش شرائط پر میزائل نہیں مل رہے تھے۔

دوسری جانب امریکا کا موقف ہے کہ روسی طرز کا یہ میزائل دفاعی نظام اس کے ایف پینتیس لڑاکا طیاروں کیلئے خطرہ ہے۔