روس، جاسوسی کے الزام میں یوکرائنی سفارت کارگرفتار

روس، جاسوسی کے الزام میں یوکرائنی سفارت کارگرفتار

ماسکو: روس نے جاسوسی کے الزام میں یوکرائن کے سفارت کار کو حراست میں لے لیا۔

روس کی خودمختار خبر رساں ایجنسی انٹر فیکس کے مطابق ایف ایس بی( فیڈرل سیکیوریٹی سروس) نے سفارت کار اولیک سینڈر سوسونیوک کواس وقت گرفتار کیا، جب وہ ایک روسی شہری سے روس کے قانون ناٖفذ کرنے والے اداروں کے ڈیٹا بیس میں موجود خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یوکرائنی وزارت خارجہ نے سوسونیوک کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اولیک سینڈر کو چند گھنٹے حراست میں رکھ کر سینٹ پٹس برگ میں واقع یوکرائنی سفارت خانے واپس بھیج دیا گیا۔ یوکرائن نے سوسونیوک کی حراست کو سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی فیڈریشن میں ایک سفارت کار کے ساتھ اس طرح کا سلوک نا مناسب ہے، کیوں کہ غیر ملکی سفارت کاروں کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق برتاؤ کیا جاتا ہے۔
روس ماضی میں بھی یوکرائنی شہریوں کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیتا رہا ہے تاہم کسی سفارت کار کو حراست میں لینے کا واقعہ شازو نادر ہی پیش آیا ہے۔ یوکرائنی سفارت کار کو حراست میں لیے جانے کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ سرحد پر روسی افواج کی تعداد میں اضافے اور مشرقی یوکرائن میں فوج اور ماسکو کے حامی علحیدگی پسندوں کے درمیان تصادم کے بعد سے  ماسکو اور کیو کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔