بریکنگ” اونٹاریو احتیاطاً آسٹرا زینیکا ویکسین پہلی خوراک کے طور پر دینا بند کردے گا، اونٹارین چیف میڈیکل آفیسر آف ہیلتھ ڈاکٹر ڈیوڈ ولیم“۔

بریکنگ” اونٹاریو احتیاطاً آسٹرا زینیکا ویکسین پہلی خوراک کے طور پر دینا بند کردے گا، اونٹارین چیف میڈیکل آفیسر آف ہیلتھ ڈاکٹر ڈیوڈ ولیم“۔

اونٹاریو حکومت خون جمنے کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے باعث فی الحال کے لئے لوگوں کو آسٹرا زینیکا ویکسین دینا  روک دے گی۔ چیف میڈیکل آفیسر آف ہیلتھ ڈاکٹر ڈیوڈ ولیم نے منگل کی سہ پہر کو عجلت میں نام نہاد پریس کانفرنس کے دوران اس وقفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نئے اعداد و شمار کے جواب میں کیا جا رہا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ  ویکسین سے متاثر ہونے والے افراد میں تھرومبوساٸٹوپینیا (VITT) کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا ، "یہ بات نہیں کہ خطرہ اس وقت بڑے پیمانے پر بڑھ گیا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات ہم محتاط رہنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ" آئیے اسے روکیں "جب ہم ڈیٹا اور معلومات کو دیکھتے ہیں۔ "
       اونٹاریو میں اب تک ویکسین کے ذریعے خون جمنے کے 8 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور یہ مہلک ہوسکتا ہے۔ ولیمز نے کہا کہ دیگر ویکسینوں ، خاص طور پر فائزر اس صوبے میں زیادہ دی گٸ ہے۔  ، اور آبادی کی سطح پر سیفٹی سگنل میں اضافہ دیکھ رہے ہیں ، اس سے آسٹرا زینیکا کا استعمال روکنا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ VITT کے سنگین نتائج کا خطرہ چیف ہیلتھ پروٹیکشن اینڈ ایمرجنسی پریپرینیشن آفیسر ڈاکٹر جیسیکا ہاپکنز نے پریس کانفرنس کے دوران کہا۔ اونٹاریو میں آسٹرا زینیکا کے استعمال کو روکنے کا فیصلہ اس صوبے میں اب ہوا ہے جب کہ اب بھی 50،000 کے قریب خوراکیں ہیں ، حالانکہ سپلائی کے معاملات کی وجہ سے اس وقت مستقبل میں کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ یہ تمام مقدار دوسری مرتبہ کی خوراک کے لئے مختص کی جائے گی ، کیونکہ برطانیہ سے ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پہلی خوراک کے بعد خون جمنے کا خطرہ دس لاکھ میں سے ایک تک کم ہو جاتا ہے۔