” اونٹاریو کے حالات فی الحال اسٹے ایٹ ہوم آرڈر ختم کرنے کے قابل نہیں اور حکومت کو لاک ڈاؤن میں توسیع کرنا چاہئے، او ایم اے “۔

” اونٹاریو کے حالات فی الحال اسٹے ایٹ ہوم آرڈر ختم کرنے کے قابل نہیں اور حکومت کو لاک ڈاؤن میں توسیع کرنا چاہئے، او ایم اے “۔

بدھ کے روز آڈیٹر جنرل بونی لائسک کی پیش کردہ ایک رپورٹ میں مارچ اور جون 2020 کے درمیان ہونے والے 26 منصوبوں کے اخراجات پر بات ہوٸ۔ ان اخراجات میں فرنٹ لائن ورکرز کی تنخواہوں میں اضافے جیسے ہائی پروفائل پروگرامز اور وبا سے متعلقہ صحت سے متعلق اخراجات کا آڈٹ ہوا لیکن حساب کتاب درست نہیں پایا گیا
         آڈٹ میں بتایا گیا کہ اس پروگرام کے فنڈز ، جو اس وعدے کے ساتھ اعلان کیے گئے تھے کہ وہ کارکنوں کو "فوری طور پر" رقم کی تقسیم شروع ہوجاۓ گی ، جون کے وسط تک رقم کی ادٸیگی شروع نہیں ہوٸ تھی۔" آڈٹ سے معلوم ہوا کہ فنڈز کی توثیق کرنے کے ضمن میں عمل کمزور تھا۔ یہ آڈٹ کے دوران پائ جانے والی خامی کی ایک مثال ہے۔ لائسک کے دفتر نے پروگراموں کی پیشرفت کے بارے میں جانچ پڑتال ، دستاویزات کی رپورٹنگ بہتر طور پہ نہیں کی۔ ان مالی وسائل کو جتنا موثر اور موثر طریقے سے ممکن ہو ، استعمال کیا جائے۔" رپورٹ میں کہا گیا ہے۔
           رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ صحت اور طویل المدتی نگہداشت کی وزارتوں نے انفرادی حیثیت میں فنڈز کے اخراجات کا پتہ نہیں لگایا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان وزارتوں نے بھی اخراجات کا حساب کتاب درست طور پہ نہیں کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طویل المدتی نگہداشت گھروں میں انفیکشن کنٹرول کی آخری تاریخ یعنی اگست 2020 کو بغیر کوٸ ٹھوس کام کیے ضائع کردیا گیا۔ اس کے علاوہ دو ایسے واقعات بھی نمایاں ہوئے جہاں صحت اور طویل المدتی نگہداشت کی وزارتوں نے وبائی امراض کے مجوزہ پروگراموں پر زیادہ توجہ دی۔ وزارت صحت نے توقع کی تھی کہ اونٹاریو ٹیلی میڈیسن نیٹ ورک میں 2،400 ڈاکٹرز کے بارے میں توقع تھی کہ وہ اس میں شمولیت اختیار کریں گے لیکن جون کے آخر تک صرف 246 معالجین نے اندراج کروایا ، جنھوں نے پہلے اندراج ہوا تھا۔ یہ بھی متوقع تھا کہ اونٹاریو کے طویل المدتی نگہداشت گھروں میں 129.7 ملین ڈالر کی لاگت سے 1،560 بستروں کا اضافہ کیا جاۓ گا ، لیکن جون کے آخر تک صرف 1.2 ملین ڈالر کے خرچ کے ساتھ 97 بستروں کا اضافہ ہوا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 31 دسمبر 2020 تک ان 26 منصوبوں  ا کے لئے خرچ کی گٸ فنڈ کی رقم جس کا آڈٹ کیا گیا تھا ، 4.4 بلین ڈالر تھی ، ۔ این ڈی پی کی رہنما آندریا ہوروااتھ نے بدھ کے روز ان نتائج پر تبصرہ کیا اور کہا کہ یہ بات پریشان کن ہے کہ حکومت نے فرنٹ لائن کارکنوں کو رقوم ادا کرنے کو ترجیح نہیں دی۔ انھوں نے کہا ، "حکومت نے فنڈز کی رقم کے خرچ کا درست حساب کتاب نہیں رکھا۔"