جسٹس فائز کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کی آپس میں تلخ کلامی

جسٹس فائز کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کی آپس میں تلخ کلامی

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسی کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کی آپس میں تلخ کلامی ہوئی، جسٹس مقبول باقر وفاقی حکومت کے وکیل کو ٹوکتے رہے جس پر ان کی جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منیب اخترکے ساتھ تلخ کلامی ہوئی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صدارتی ریفرنس نظرثانی کیس کی سماعت کی۔


 
وفاقی حکومت کے وکیل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک جج پر حرف آنا پوری عدلیہ پر حرف آنے کے برابر ہے، ایف بی آر کو ڈیڈ لائنز دینے کی وجہ بھی کیس کا جلد فیصلہ کرنا تھا، سرینا عیسی کے لیے متعلقہ فورم ایف بی آر ہی تھا، عدالت نے تو سرینا عیسی کے خلاف کوئی حکم جاری ہی نہیں کیا تھا، سماعت کی ضرورت کسی کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے ہوتی ہے، کیس ایف بی آر کو بھجوانے سے پہلے بھی سرینا عیسی کو سنا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سپریم کورٹ کے تین سوالات کا جواب جمع کرادیا


 
جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ ایف بی آر کا معاملہ میری اہلیہ اور ادارے کے درمیان ہے، حکومت صرف کیس لٹکانے کی کوشش کررہی ہے، حکومت چاہتی ہے جسٹس منظور ملک کی ریٹائرمنٹ تک کیس لٹکایا جائے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ مسٹر عامر رحمان اختصار سے دلائل دیں، دوسرے فریق کو بھی وقت کی قلت کا کہتے رہے۔ اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہاں کوئی ریس تو نہیں لگی ہوئی، عامر رحمان صاحب ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔

جسٹس مقبول باقر نے ان سے کہا کہ آپ میری بات میں مداخلت نہ کریں، کسی سینئر کی بات میں مداخلت کا یہ طریقہ نہیں ہے، کوئی کسی خاص وجہ سے تاخیر چاہتا ہے تو الگ بات ہے، پوری دنیا کیس دیکھ رہی ہے عدالتی وقار کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔


 
جسٹس باقر اور جسٹس سجاد علی شاہ میں بھی تلخی ہوئی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ آپ کسی کو نہیں روک سکتے وہ بات کرے گا، عامر رحمان کیلئے یا وقت مقرر کریں یا دلائل پورے کرنے دیں، بار بار وکیل کو ٹوکتے رہے تو میں اٹھ کر چلا جاؤں گا۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ سماعت کسی دھونس سے نہیں چلے گی، اٹھ کر تو میں بھی جا سکتا ہوں۔

حکومتی وکیل نے کہا کہ مناسب ہوگا کہ عدالت دس منٹ کا وقفہ کر لے۔ جسٹس مقبول باقر بولے کہ دس منٹ کے وقفے سے کیا ہوگا؟۔ سپریم کورٹ نے ججز کے درمیان تلخی پر دس منٹ کا وقفہ کر دیا۔

وقفے کے بعد جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جسٹس مقبول باقر بینچ کی محبوبہ ہیں، جب پانی نہ پی سکیں،تازہ ہوا میں سانس کافی ہوتا ہے،روزے کی وجہ سے ہم بھی تازہ ہوا میں سانس لیکر آئے ہیں، سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ ہم جذباتی نہ ہوں، سپریم کورٹ کے لیے یہ حساس ترین کیس ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی فیصلے میں نہیں کہا گیا کہ سرینا عیسیٰ کا کیس ارٹیکل 187 کے تحت ایف بی آر کو بھیجا گیا،مکمل انصاف کا تقاضا ہے کہ کیس کو جلد مکمل کیا جائے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔